Friday, 09 November, 2007, 21:35 GMT 02:35 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
وفاقی وزیر برائے سیاسی امور امیر مقام نے کہا ہے کہ ان کے رہائش گاہ پر ہونے والا مبینہ خودکش حملے کا ٹارگٹ وہ تھے تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے حملوں سے ان کے حوصلے پست نہیں ہوں گے بلکہ دہشتگردی کے خلاف جاری عالمی جنگ آخری لمحے تک جاری رہے گی۔
جمعہ کی شام اپنی رہائشگاہ پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ’اس سے پہلے بھی مجھ پر حملے ہو چکے ہیں لیکن شاید ابھی میرا کچھ رزق باقی ہے۔ ویسے بھی جو وقت اللہ تعالی مقرر کرتا ہے وہ ایک سکینڈ بھی اگے پیچھے نہیں ہو سکتا‘۔
ان کا کہنا تھا ’ حملے کا ہدف تو میں ہی تھا لیکن اللہ نے مجھے بچالیا۔ دہشت گردی کے خلاف ہماری جو جنگ ہے وہ بغیر کسی تاخیر کے جاری رہے گی‘۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ’اس موقع پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دھماکہ سوات میں جاری حکومتی کارروائی کا ردعمل ہو سکتا ہے‘۔ تاہم انہوں نے دھماکے کے سوات سے تعلق کے حوالے سے کئی سوالات کے جوابات دینے سے انکار کیا۔
وفاقی وزیر برائے سیاسی امور امیر مقام کا تعلق صوبہ سرحد کے سوات سے متصل ضلع شانگلہ سے ہے۔ سوات میں گزشتہ دو ہفتوں سے مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ فریقین کے درمیان مصالحت کرانے کے لیے امیر مقام نے کئی بار کوشش بھی کی تاہم بحیثیت وفاقی وزیر طالبان کی نظر میں ان کا کردار مبینہ طور پر مشکوک رہا ہے۔
یاد رہے کہ جمعہ کی صبح پشاور کے حیات آباد علاقے میں وفاقی وزیر امیر مقام کے گھر پر ہونے والے خودکش حملے میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔