Thursday, 08 November, 2007, 08:12 GMT 13:12 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور بنیادی انسانی حقوق کی معطلی کے خلاف سندھ کے کئی شہروں میں جمعرات کو شٹر بند ہڑتال ہے اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
بینظیر بھٹو کے آبائی شہر لاڑکانہ سمیت جیکب آباد، گھوٹکی، عمرکوٹ، ٹنڈو محمد خان، جامشورو، سمیت کئی شہر مکمل طور بند ہیں، جبکہ میرپورخاص، نوابشاھ میں جزوری ہڑتال رہی ہے۔ صوبے کے دونوں بڑے شہروں کراچی اور حیدرآباد میں سندھی آبادی والے علاقوں میں کاروبار بند رہا ہے۔
مختلف شہروں سے پولیس اور کارکنوں میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں اور پولیس نے کچھ گرفتاریاں کی ہیں۔ کچھ علاقے میں کریکر کے دھماکوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
سندھ ترقی پسند پارٹی کے قائم مقام چیئرمین ڈاکٹر حمید میمن نے نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بی سی کو بتایا کہ ان کی ہڑتال کی کال کی عوام نے مؤثر حمایت کی ہے اور ہڑتال کامیاب ثابت ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس دو مرتبہ ان کے سیاسی مرکز ترقی پسند ہاؤس پر چھاپے مارچکی ہے مگر سارے رہنما روپوش ہوگئے ہیں۔
قوم پرست جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی کی جانب سے ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا جس کی دیگر قوم پرست جماعتوں کے ساتھ جماعت اسلامی نے بھی حمایت کی تھی۔ کسی سیاسی جماعت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد یہ پہلا بڑا احتجاج ہے۔
عدالتوں کا بائیکاٹ، وکلاء کی گرفتاریاں
دوسری جانب سندھ کی عدالتوں کے وکلاء تنظیموں نے جمعرات کو بھی بائیکاٹ جاری رکھا اور جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کیا۔ کراچی میں ہائی کورٹ کے اندر رینجرز تعینات کردیے گئے ہیں اور حیدرآباد پولیس نے ہائی کورٹ بار کے صدر قاضی عبدالستار اور ڈسٹرکٹ بار کے صدر عبدالعزیز کو گرفتار کرلیا ہے۔
کراچی میں مزید وکلاء کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جن میں سے کچھ کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔
پاکستان بار کاؤنسل کے رکن یاسین آزاد نے بتایا کہ جنرل باڈی کےاجلاس کے بعد جسٹس رٹائرڈ ابو الانعام کو بار روم سے نکلتے ہی گرفتار کر لیا گیا، جبکہ سینیئر وکلاء عبدالحفیظ لاکھو، اختر حسین، محمود الحسن اور ان سمیت آٹھ وکلاء کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کے احکامات جاری کیےگئے ہیں۔
یاسین آزاد نے بتایا کہ وہ بار روم میں موجود ہیں اور یہاں سے نکل کر گرفتاری پیش کردیں گے جبکہ خدشہ ہے کہ دیگر وکلاء کو ان کے گھروں سے گرفتار کرلیا جائیگا۔
واضح رہے کہ ہائی کورٹ بار کے عہدیداروں کی گرفتاری کے بعد ان وکلاء نے ایک کمیٹی بنائی تھی جو تمام فیصلوں کی مجاز تھی اور وکلاء تحریک کو آگے لیکر چل رہی تھی۔
دوسری جانب وکلاء کے حاضر نہ ہونے پر عدالتوں نے مقدمات خارج کرنا شروع کردیا ہے۔ یاسین آزاد نے کہا کہ مؤکلوں کا دباؤں بڑھ رہا ہے اور وکلاء نے انہیں کہا ہے کہ وہ خود جاکر عدالتوں میں پیش ہوں۔