http://bbc.com.im/urdu/

’انتخابات کروائیں، وردی اتاردیں‘

امریکہ کے صدر جارج بش نے پاکستان کے صدر جنرل مشرف سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پارلیمانی انتخابات کروائیں اور فوج کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے عہدے سے دستبردار ہوں۔

ایمرجنسی پر خصوصی کوریج
پاکستان کے لیےامریکی امداد پر نظرِ ثانی
انتخابات شیڈول کے مطابق: اٹارنی جنرل

یہ پاکستان میں ایمرجنسی لگنے کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ صدر بش نے صدر جنرل مشرف سے بات کی ہو۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کے مطابق وائٹ ہاؤس صدر مشرف پر تنقید کرنے میں بہت محتاط رہا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان میں ایمرجننسی کے نفاذ کے تین دن بعد صدر بش نے پاکستانی صدر سے ان کے اس عمل پر احتجاج کیا ہے۔ حالانکہ واشنگٹن صدر مشرف کو اس سے باز رہنے کی تلقین کرتا رہا ہے۔

صدر بش نے ان الزامات کی تردید کی کہ انہوں نے پاکستان میں وکلاء اور سیاسی ورکرز کی گرفتاریوں پر ردِ عمل ظاہر کرنے میں دوغلے پن کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ حال ہی میں برما میں جب ایسا ہوا تھا تو انہوں نے شدید مذمت کی تھی۔ صدر بش نے کہا کہ دونوں میں فرق ہے: ’پاکستان جمہوریت کی راہ پر گامزن ہے جبکہ برما نہیں ہے۔‘

ادھر امریکی نائب وزیرِ خارجہ نیگرو پونٹے نے کانگریس کو بتایا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے صدر مشرف ناگزیر ہیں اور پاکستان سے اشتراک کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کے باوجود امریکہ پاکستان کی امداد جاری رکھے گا۔

اس سے پہلے بھی واشنگٹن سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر بش نے کہا تھا کہ امریکہ نے پہلے ہی پاکستانی رہنما سے کہا تھا کہ ایمرجنسی نافذ نہ کریں۔

انہوں نے کہا تھا کہ’ہم توقع کرتے ہیں کہ جس حد تک جلد ممکن ہو انتخابات کرائے جائیں اور صدر اپنی فوجی وردی اتار دیں۔ اس اقدام سے پہلے ہم نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ایمرجنسی جمہوریت کی جڑیں کاٹ دے گی۔ اب ہم یہ توقع کر رہے ہیں کہ وہ جس قدر جلد ہوسکے جمہوریت کو بحال کریں گے۔‘

چند روز قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈانا پرینو نے کہا تھا کہ پاکستان کو جاری امریکی امداد پر از سرِ نو غور کیا جا رہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے وارننگ دی تھی کہ اگر صدر مشرف نے (ایمرجنسی کا) اقدام واپس نہیں لیا تو واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔