Tuesday, 06 November, 2007, 02:25 GMT 07:25 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے جاری کیے گئے عبوری آئینی حکم ( پی سی او ) کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے وکیل مشتاق میمن کی جانب سے سابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ انور منصور خان نے پیر کہ روز یہ درخواست دائر کی ہے۔ جس میں صدر مملکت، وزیر اعظم، چیف آف آرمی اسٹاف اور تمام محکموں کے سیکریٹریوں کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عبوری آئینی حکم سپریم کورٹ کی جانب سے 3 نومبر کو جاری کردہ حکم نامے کے متصادم ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سات ججوں کی جانب سے ایک حکم جاری ہوا تھا جس میں انہوں نے عبوری آئینی حکم کو کالعدم قرار دیا تھا اور تمام فوجی اور سول حکام کو ہدایت دی تھی کہ کوئی بھی پی سی او کے تحت خدمات سرانجام نہ دے اور نہ جج پی سی او کے تحت حلف اٹھائیں۔
ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدر کی جانب سے ایمرجنسی کا نفاذ اور اٹھائے گئے تمام اقدامات غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مدعا علیہان نے ایمرجنسی کے نام پر حقیقت میں مارشل لا نافذ کیا ہے، آئین جو پاکستان کی دھڑکن ہے اسے غیر قانونی طریقے سے معطل کیا گیا ہے اور پی سی او مسلط کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق فرد واحد کو یہ اختیار نہیں ہے کہ عوام پر ایسے اقدامات مسلط کرے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم نامہ عبوری آئینی حکم
( پی سی او ) جاری ہونے سے پہلے جاری ہوا تھا مگر حکومت نے اس پر عمل درآمد روک دیا ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے تین نومبر کو جاری کیے گئے حکم کے متصادم تمام فیصلے روکے جائیں اور سپریم کورٹ کے حکم پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرایا جائے۔ تمام عدالتیں آئین کے آرٹیکل 198 کے تحت سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کی پابند ہیں۔