Tuesday, 06 November, 2007, 15:50 GMT 20:50 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور
لاہور کی ایک مقامی عدالت نے منگل کو انسانی حقوق کمیشن کے سیکرٹری جنرل سید اقبال حیدر اور کمیشن کے ڈائریکٹر آئی اے رحمن سمیت انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے چوّن افراد کو ضمانت پر رہا کرنے حکم دیا ہے۔
عدالت نے ہدایت کی ہے ان افراد کی رہائی تیس، تیس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض عمل میں لائی جائے۔
ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد انسانی حقوق کمیشن کے ہنگامی اجلاس کے بعد سید اقبال حیدر اور آئی اے رحمن کے علاوہ خواتین سمیت پچاس سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
حراست میں لیے جانے والوں میں سابق وزیر خزانہ پنجاب شاہد حفیظ کاردار، سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اشتر اوصاف علی، سابق پرنسپل این سی اے سلیمہ ہاشمی، جسٹس جاوید بٹر کے داماد شاہ زیب مسعود، سید منصور علی شاہ، ڈاکٹر پروفیسر علی چیمہ سمیت متعدد معروف ہستیاں شامل تھیں۔
عدالت نے سوموار کو اقبال حیدر اور آئی اے رحمن کے علاوہ حراست میں لیے گئے دیگر افراد کو چودہ دنوں کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا تاہم رات کو ان افراد کو گھروں میں منتقل کر کے ان گھروں کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔
اشتراوصاف علی شیخ کو پولیس حراست کے دوران دل کا دورہ پڑا جس کے بعد انہیں پولیس سٹیشن سے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جبکہ اقبال حیدر اور آئی اے رحمن کو پولیس سٹیشن سے عاصمہ جہانگیر کے گھر منتقل کرکے اس کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔