http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 05 November, 2007, 07:00 GMT 12:00 PST

شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سپریم کورٹ کے ارد گرد کرفیو کا سماں

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شاہراہِ دستور پر واقع سپریم کورٹ کے ارد گرد وسیع علاقے میں پیر کی صبح سے کرفیو کا سماں ہے۔

سپریم کورٹ کے سامنے سے گزرنے والے شاہراہِ دستور کو ریڈیو پاکستان چوک سے سیکریٹریٹ چوک تک اور جناح ایونیو اور اس کے متوازی چلنے والے سروس روڈ کو پارلیمنٹ لاجز سے مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور کسی بھی شخص کو آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

بی بی سی کی خوصوصی نشریات

پیر سے نئی تحریک

جن مقامات پر سڑکوں کو بند کیا گیا ہے وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات ہے۔ وہاں سب سے آگے اسلام آباد پولیس اور پنجاب پولیس کے جوان تعینات ہیں جبکہ ان کے پیچھے رینجرز کے جوان تعینات کیے گئے ہیں۔

سب سے پیچھے سفید کپڑوں میں ملبوس افراد تعینات ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ کہ وہ فوجی ہیں۔ علاقے میں لگائے گئے ایک ناکے پر موجود اسلام آباد پولیس کے ڈی ایس پی بشیر نون سے جب سفید کپڑوں میں ملبوس افراد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’ان کا تعلق نہ تو پولیس سے ہے اور نہ ہی وہ رینجرز ہیں، اس صورت میں آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کون ہیں‘۔

صرف ان بارہ وکیلوں کو سپریم کورٹ کی عمارت میں داخلے کے پاس جاری کیے گئے ہیں جن کے کیسوں کی پیر کو سماعت ہونی ہے۔ تاہم چند وکیلوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے کیس زیر سماعت ہونے کے باوجود انہیں پاس جاری نہیں کیے گئے۔

پارلیمنٹ لاجز کے قریب ناکے پر موجود ایک وکیل سردار عابد نے بی بی سی کو بتایا کہ آج ان کے دو کیسوں کی سپریم کورٹ میں سماعت ہونی ہے لیکن انہیں آگے جانے سے روکا جارہا ہے۔

علاقے میں سخت ترین سکیورٹی انتظامات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کو ناکوں سے آگے جانے کے لیے اپنا سرکاری کارڈ دکھانا پڑتا ہے۔