Monday, 05 November, 2007, 07:31 GMT 12:31 PST
بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاکستان
پاکستان میں ایمرجنسی اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر ججز کی برطرفی کے خلاف وکلاء نے ملک بھر میں شدید احتجاج کیا اور مختلف اضلاع سے درجنوں وکلاء کی گرفتاری، لاٹھی چارج اور پولیس کے ساتھ تصادم کی اطلاعات ملی ہیں۔
اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ کے گرد کرفیو کا سماں ہے۔ کراچی سے ریاض سہیل نے بتایا کہ وہاں پیر کو وکلاء نے شدید احتجاج کیا ہے اور اس دوران پولیس نے لاٹھی چارج کر کے کئی درجن وکلاء کو گرفتار کر لیا ہے۔ حلف نے لینے والے ججوں نے عدالت پہنچنے کی کوشش کی لیکن انہیں گھروں سے نہیں نکلنے دیا گیا۔
لاہور ہائی کورٹ میں پولیس نے احتجاج کرنے والے سینکڑوں وکلاء کی موجودگی میں شدید لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے جس کے نتیجے میں کچھ وکلاء زخمی بھی ہوئے۔ وکلاء کی طرف سے پتھراؤ کیا گیا جس کا ایک عدالت نشانہ بھی بنی۔ وکلاء نے حلف نہ لینے والے ججوں کی عدالتوں پر گل پاشی بھی کی۔
کراچی
کراچ میں ہمارے نامہ نگاروں ریاض سہیل اور ارمان صابر کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں سندھ کے سابق چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے بیٹے صلاح الدین بھی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ بار اور سندھ بار ایسو سی ایشن کی جانب سے پیر کو عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ کے اطراف میں صبح سویرے سے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی اور داخلی دروازوں پر سادہ کپڑے میں اہلکار موجود تھے جو صرف ہائی کورٹ کے ملازم اور وکلاء کو شناخت کے بعد جانے دے رہے تھے۔ وکلاء میں سے کئی کو واپس بھی کیا گیا۔
مقدمات کی شنوائی کے لیے دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کو دروازہ سے ہی یہ کہہ کر واپس کیا گیا کہ آج مقدمات نہیں چل رہے ہیں۔ وکلاء آہستہ آہستہ جمع ہونے شروع ہوئے اور انہوں نے ہائی کورٹ کے ججز گیٹ پر دھرنا دیا اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی آمد کا راستہ بلاک کردیا۔
وکلاء کے احتجاج کے بعد پولیس نے عام داخلی دروازے سے مزید وکلاء کو اندر جانے سے روک لیا۔ اس اطلاع پر وکلاء کی ایک بڑی تعداد پہنچ گئی اور داخلہ دروازے کو زبردستی کھول دیا اور تمام وکلاء اندر چلے گئے۔
اس دوران پولیس کی ان سے جھڑپیں ہوئی اور پولیس نے بے دریغ لاٹھایاں برسانی شروع کردیں اور وکلاء نے حکومت کے خلاف نعرے لگانے شروع کردیے۔ پولیس اہلکاروں نے تین وکلاء کو دبوچ کر گرفتار کر لیا جس پر وکلاء مزید مشتعل ہوگئے اور ایک مرتبہ پھر وکیل اور پولیس گتھم گتھا ہوگئی۔
پولیس وین اور موبائیل ہائی کورٹ کے احاطے اندر پہنچ گئی اور وکلاء کو گرفتار کرنا شروع کر دیا جس کے دوران سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے بیٹے صلاح الدین کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس گاڑیاں ہائی کورٹ کے اندر جاکر گرفتاریاں کرتی رہیں۔ اس دوران خواتین وکلاء پر بھی تشدد کیا گیا۔ سادہ کپڑے میں اہلکاروں نے ہائی کورٹ بار پر آویزاں کالا جھنڈا بھی اتار لیا۔
ہائی کورٹ کے سابق جج رشید رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ایک سو سے زائد ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کراچی بار کے دفتر اور سٹی کورٹس کا بھی پولیس نے گھیراؤ کرلیا ہے۔ جس وجہ سے نہ ہائی کورٹ اور نہ ہی سٹی کورٹس میں مقدمات چلے سکے ہیں۔
اس سے قبل اتوار کو پاکستان میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پانچ سو کے قریب افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔گرفتار اور نظر بند ہونے والوں میں متعدد سینیئر وکلاء اور سیاستدان بھی شامل ہیں۔ گرفتاریوں کا اعلان وزیراعظم پاکستان شوکت عزیز نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا۔
پنجاب سے نامہ نگاروں علی سلمان اور عباد الحق نے مختلف اضلاع میں وکلاء کے شدید احتجاج کی اطلاع دی۔
لاہور ہائی کورٹ
لاہور ہائی کورٹ میں پولیس نے عدالت کے احاطے میں داخل ہو کر اعلان کیا کہ دفعہ ایک سو چوالیس کی موجودگی میں وکلاء پر امن رہیں اور قانون کی خلاف ورزی نہ کریں۔ پولیس نے کہا کہ وہ طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتی۔ وکلاء جو سینکڑوں کی تعداد میں تھے شدید نعرے بازی کرتے رہے اور ہائی کورٹ میں پھیل گئے۔ اس دوران نے پولیس نے شدید لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس پھینکی۔ وکلاء نے ایک عدالت پر پتھراؤ کیا اور ان ججوں کی عدالتوں پر گُل پاشی کی جنہوں نے حلف نہیں لیا۔
پنجاب
ایمرجنسی کے بعد پہلے روز عدالتیں کھلیں تو پنجاب کے مختلف اضلاع میں کشیدہ صورتحال سامنے آئی گوجرانوالہ اور روالپنڈی سے درجنوں وکیلوں کو گرفتار کیا گیا۔تقریباً تمام شہروں کی عدالتوں کے اردگرد پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ وکلاء احتجاج کر رہے ہیں عدالتوں کا بائیکاٹ ہوا ہے جبکہ مختلف شہروں سے لاٹھی چارج اور وکلاء پر تشدد کی اطلاعات ملی ہیں۔
لاہور سمیت پنجاب بھر میں عدالتی کارروائی بری طرح متاثر ہوئی اور وکلاء عدالتوں میں پیش ہونے کی بجائے حکومت مخالف نعرے بازی کرتے رہے۔
وکلاء گو مشرف گو اور پی سی او نامنظور کے نعرے لگاتے رہے۔
راولپنڈی میں وکلاء نے بائیکاٹ کے بعد جلوس نکالا تو پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور نوے وکیلوں کو گرفتار کر لیا۔
گوجرانوالہ میں پولیس ضلعی کچہری کے اندر داخل ہوگئی ہے اور اس نے وہاں پہنچنے والے وکیلوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہےاطلاعات کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسویشن گوجرانوالہ کے صدر الیاس بخاری سمیت چار درجن کے قریب وکیلوں کو حراست میں لیاگیا جبکہ بارروم پر پولیس نے عملی طور پر قبضہ کیا ہوا ہے۔
ملتان میں لاہورہائی کورٹ کے ملتان بنچ میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے دو جج کمرہ عدالت پہنچے تو چند نوجوان وکلاء نے ان سے بد زبانی کی جس کے بعد جج صاحبان اپنے چمبر میں چلے گئے جبکہ پولیس کی بھاری نفری ہائی کورٹ کے اردگرد تعینات کردی گئی پولیس نے ڈسٹرکٹ کورٹ ملتان کا گھیراؤ کررکھا ہے۔
فیصل آباد میں پولیس نے صبح چھ بجے ہی ضلعی عدالتوں کا محاصرہ کرلیا تھا۔کسی کوعدالت جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ پنجاب کے مختلف شہروں سے وکلاء کے احتجاج اور ان کی گرفتاریوں کی اطلاعات مل رہی ہیں،پولیس نے کل رات سے وکیلوں کی گرفتاریاں شروع کررکھی ہیں اور بڑی تعداد میں وکلاء اور ان کے رہنما پولیس کی حراست میں ہیں۔