Monday, 05 November, 2007, 12:59 GMT 17:59 PST
عباس نقوی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے پہلے ہی روز ملک کے سب سے بڑے بازارِ حصص میں تاریخ کی سب سے بڑی مندی دیکھی گئی اور مارکیٹ چھ سو پینتس پوائنٹ کی کمی کے ساتھ بند ہوئی۔ بازارِ حصص کے ماہریں آنے والے دنوں میں بھی مارکیٹ کے سنبھلنے کے بارے میں پُرامید نہیں ہیں۔
مالیاتی ہفتے کے پہلے روز کراچی اسٹاک ایکسچینج منفی تین سو پوائنٹ پر کھلی تھی اور سرکاری مالیاتی اداروں کی جانب سے سپورٹ کے بعد مارکیٹ کے حصص میں لگ بھگ ڈیڑھ سو پوائنٹ کا اضافہ ہوا تاہم یہ صورتحال زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔
سٹاک ایکسچنج سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ تقریباً بارہ بجے مارکیٹ ایک بار پھر افواہوں کی زد میں آگئی جن میں ملکی قیادت کی تبدیلی اور صدر جنرل پرویز مشرف کی نظر بندی کی افواہیں نمایاں تھیں۔
بازارِ حصص کے ماہریں کے مطابق اس صورتحال میں سرکاری اور مقامی مالیاتی اداروں کی جانب سے خاموشی دیکھی گئی جس کے باعث مارکیٹ میں فروخت کا رجحاں بڑھتا ہی چلا گیا۔
جنرل مشرف کی نظر بندی کی افواہ ![]() |
غنی عثمان نے مزید بتایا کہ کراچی سٹاک ایکسچینج میں یہ قانون ہے کہ کسی بھی آئٹم کو ایک دن میں زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد تک فروخت کیا جاسکتا ہے جس کے بعد اُس آئٹم پر لاک لگ جاتا ہے اور اُس کی مزید فروخت اگلے سیشن میں ہوسکتی ہے۔
اُن کا یہ کہنا ہے کہ اس قانوں کی وجہ سے مارکیٹ کے مزیدگراؤ میں رکاوٹ ہوئی اگر ایسا نہیں ہوتا تو مارکیٹ مزید چار سو پوائنٹ تک کرسکتی تھی۔
غنی عثمان نے کہا کہ کراچی سٹاک ایکسچینج کی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہے کہ مارکیٹ چھ سو پوائنٹ تک گرکر بند ہوئی اور بیشتر آئٹم اوسط پانچ فیصد تک فروخت ہوئے۔
حصص کا کاروبار حساس ترین کاروبار تصور کیا جاتا ہے جہاں افواہوں سے مارکیٹ اُٹھ بھی سکتی ہے اور گر بھی سینئر ممبر کراچی سٹاک ایکسچینج صدیق دللال کہتے ہیں کہ پیر کو مارکیٹ گرنے کی ایک وجہ وزیرِعظم کی اتوار کو کی جانے والی پریس کانفرنس بھی ہے جس سے ایسا تاثر ملا کہ آئندہ کچھ سالوں تک ملک میں مارشل لاء ہی رہے گا۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اس عرصے میں کراچی کا بازارِ حصص کی صورتحال بھی غیر یقینی ہی رہے گی۔
مارکیٹ 600 پوائنٹ منفی بند ہوئی |
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق کراچی سٹاک ایکسچینج کی غیر ملکی سرمایہ کاری میں بیس سے پچیس ملین ڈالر کی کمی آئی ہے۔