Monday, 05 November, 2007, 17:24 GMT 22:24 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور
لاہور کی ایک مقامی عدالت نے سوموار کو انسانی حقوق کمیشن کے سیکرٹری جنرل سید اقبال حیدر اور کمیشن کے ڈائریکٹر آئی اے رحمن سمیت انسانی حقوق کے لیے کام کرنے چالیس افراد کو چودہ دنوں کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ تاہم رات کے وقت ان افراد کو گلبرگ کے رہائشی علاقہ میں مختلف گھروں میں منتقل کرکے ان گھروں کو سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔
حراست میں لئے جانے والوں میں سابق وزیر خزانہ پنجاب شاہد حفیظ کاردار، سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اشتراوصاف علی، سابق پرنسپل این سی اے سلیمہ ہاشمی، جسٹس جاوید بٹر کے داماد شازیب مسعود، سید منصور علی شاہ، ڈاکٹر پروفیسرعلی چیمہ نمایاں تھا۔
اشتراوصاف علی شیخ کو پولیس حراست کے دوران دل کا دورہ پڑا جس کے بعد ان کو پولیس اسٹیشن سے مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا جبکہ اقبال حیدر اور آئی اے رحمن کو پولیس اسٹیشن سے عاصمہ جہانگیر کے گھر منتقل کرکے اس کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔
عدالت کے روبرو بائیس خواتین سمیت چالیس سے زائد افراد کو پیش کیا گیا جس پر عدالت نے ان افراد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا جبکہ عدالت نے ان افراد کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر منگل کے لیے نوٹس جاری کردیئے ہیں اور پولیس کو مقدمہ کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔