Monday, 05 November, 2007, 00:44 GMT 05:44 PST
بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاکستان
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد حکومتی اعدادوشمار کے مطابق اب تک ملک بھر سے پانچ سو کے قریب افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔گرفتار اور نظر بند ہونے والوں میں متعدد سینیئر وکلاء اور سیاستدان بھی شامل ہیں۔
گرفتاریوں کا اعلان وزیراعظم پاکستان نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گرفتارشدگان میں سے تقریباً پینتالیس کو اسلام آباد میں رکھا گیا ہے۔
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے سنیچر کی شام عبوری آئینی حکم(PCO) جاری کرتے ہوئے پورے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی تھی اور ملک میں سرکاری ٹی وی کے علاوہ دیگر نیوز ٹیلیویژن چینلز کی نشریات بند کر دی گئیں۔
ادھر لاہور، سندھ اور پشاور ہائی کورٹس کے مزید گیارہ ججوں نے نئے پی سی او کے تحت حلف اٹھا لیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے مزید چار ججوں نے اتوارکو حلف اٹھایا جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے حلف اٹھانے والے ججوں کی تعداد سترہ ہوگئی ہے۔ حلف اٹھانے والوں میں جسٹس عبدالشکور پراچہ، جسٹس شیخ حاکم علی، جسٹس سجاد حسین شاہ اور جسٹس سردار اسلم شامل ہیں۔
کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے چار مزید ججوں جسٹس عزیز اللہ میمن، جسٹس محمود عالم، جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو، جسٹس ندیم اظہر اور جسٹس عزیز اللہ میمن نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہے جبکہ پشاور میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار انتخاب امیر کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے بھی تین ججوں نے اتوار کو اپنے عہدے کا حلف لے لیا ہے جن میں جسٹس راج محمد ،جسٹس محمد رضا اور جسٹس جہانزیب شامل ہیں۔
جسٹس افتخار چودھری کی برطرفی اور نئے چیف جسٹس جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے تقرر کے بعد سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین کو ان کے عہدے سے ہٹا کر کے پاکستان لاء کمیشن واپس بھیج دیا گیا ہے اور ان کی جگہ پر سارہ سعید کو سپریم کورٹ کا نیا رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ایک نوٹس کے ذریعے وکلاء کو مطلع کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں پانچ نومبر سے آٹھ نومبر تک زیرِ سماعت مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی گئی ہے اور سماعت کی اگلی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ سنیچر کی شب سات رکنی بنچ کی جانب سے ایمرجنسی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے سنیچر کوایک حکم جاری کیا تھا جس میں انہوں نے عبوری آئینی حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اور تمام فوجی اور سول حکام کو ہدایت کی تھی کوئی بھی پی سی او کے تحت خدمات سرانجام نہ دے اور نہ جج پی سی او کے تحت حلف اٹھائیں۔
بنچ نے یہ حکم اعتزاز احسن کی ایک درخواست پر دیا جو انہوں نے جمعہ کو ایمرجنسی یا پی سی او کے ممکنہ نفاذ کے خلاف دائر کی تھی۔ یہ درخواست صدر کے کاغذاتِ نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر شدہ درخواست کی سماعت کے دوران دائر کی گئی تھی۔
گرفتاریاں اور نظر بندیاں
![]() | |
| اعتزاز احسن گرفتار کیے جانے والے پہلے اہم رہنما تھے |
انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو لاہور میں جبکہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کو پشاور میں ان کی رہائشگاہوں پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ جنرل سیکرٹری قاہر شاہ، بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ اور نائب صدر ہاشم کاکڑ کو بھی نقص امن کے تحت گھروں میں نظر بند کیا گیا ہے۔
عالمی مذمت و تشویش، امریکی امداد پر نظرثانی
![]() | |
| پاکستانی پولیس اہلکار ایمرجنسی کی خبریں پڑھنے میں مصروف ہیں |
واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق امریکی حکومت صدر مشرف کی جانب سے پاکستان کے لیے علیحدہ جمہوری معیار مقرر کرنے کی بات پر زیادہ خوش نہیں ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس نے اس بات کا اشارہ دیا کہ واشنگٹن پاکستان کو دیے جانے والی امدادی پیکج پر نظر ثانی کرے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی امداد کا ایک حصہ القاعدہ اور طالبان کے کارکنوں کو پکڑنے کے لیے ہے جو کہ بش انتظامیہ کی ترجیحات میں ہے۔
برطانوی وزیرِخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ وہ اس صورت حال پر شدید فکرمند ہیں جبکہ نئی دہلی میں بھارتی سرکاری ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان جن مشکل حالات سے گزر رہا ہے اس پر بھارت کو افسوس ہے۔
کینیڈا کی حکومت نے جنرل مشرف کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے جبکہ یورپی یونین نےبھی سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کو جلد عوام کی حکمرانی اور جمہوریت کی طرف لوٹنا چاہیے۔
پریس پر پابندیاں
صدر جنرل پرویز مشرف نے پریس، اخبارات، خبر رساں اداروں اور کتب رجسٹریشن آرڈیننس2002ء میں ترمیم کرتے ہوئے پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈ بکس رجسٹریشن (ترمیمی) آرڈیننس 2007ء جاری کیا ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔وزارت قانون و انصاف کی طرف سے جاری کردہ آرڈیننس کے مطابق پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈ بکس رجسٹریشن آرڈیننس 2002ءمیں بعض ترامیم اور بعض شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔
پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر بی بی سی اردو سروس کے صبح کے پروگرام جہاں نما کے وقت میں اضافہ کیا گیا ہے اور اتوار کا ’جہاں نما‘ ایک گھنٹے پر مشتمل ہوگا اور پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے سے ساڑھے سات بجے تک نشر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر ساڑھے بارہ بجے بی بی سی اردو سروس ایک خصوصی پروگرام بھی پیش کرے گی۔