Monday, 05 November, 2007, 00:33 GMT 05:33 PST
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس نے کہا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کو دیے جانے والے امدادی پیکج پر نظر ثانی کرے گا۔
وزیر خارجہ رائیس کے مطابق امدادی پیکج پر نظرثانی جنرل پرویز مشرف کی جانب سے سنیچر کو پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کی جارہی ہے۔
تاہم کونڈولیزا رائیس نے کہا کہ امدادی پیکج کا ایک حصہ القاعدہ اور طالبان کو پکڑنے کے لیے ہے جو کہ صدر جارج بش کی انتظامیہ کی بڑی ترجیح ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امریکہ نے دس بلین ڈالر کی امداد فراہم کی ہے۔
امریکہ، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد عالمی ممالک نے پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاد کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ امریکی وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر مشرف ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد کا وعدہ پورا کریں اور صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے سے قبل فوجی سربراہ کا عہدہ چھوڑ دیں۔
برطانوی وزیرِخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ وہ اس صورتحال پر شدید فکرمند ہیں جبکہ نئی دہلی میں بھارتی سرکاری ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان جن مشکل حالات سے گزر رہا ہے اس پر بھارت کو افسوس ہے۔
کینیڈا کی حکومت نے جنرل مشرف کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے جبکہ یورپی یونین نےبھی سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کو جلد عوام کی حکمرانی اور جمہوریت کی طرف لوٹنا چاہیے۔