http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 04 November, 2007, 17:42 GMT 22:42 PST

25 طالبان کے بدلے 200 سپاہی بازیاب

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فوج نے اپنے دو سو سپاہیوں کی رہائی کے عوض گرفتار شدہ پچیس طالبان جن میں کچھ سزا یافتہ خود کش بمبار بھی شامل ہیں رہا کر دیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبدالحئی کاکٹر نے پشاور سے اطلاع دی ہے کہ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد سے جب جنوبی وزیرستان سے یرغمال شدہ سپاہیوں کے عوض طالبان کی رہائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس کا اعتراف کیا۔

میجر جنرل وحید ارشد نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے مقامی طالبان کے ساتھ فروری دو ہزار پانچ کے اس معاہدے کو بحال کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے جس کے تحت محسود قبائل کے علاقے سے فوج کو نکال لینے کی شرط بھی شامل تھی۔

مقامی طالبان کے جن پچیس ساتھیوں کو رہا کیا گیا ہے ان میں سہیل زیب نامی نوجوان بھی شامل ہے جس کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے خود کشں بمبار قرار دے کرچوبیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سہیل زیب طالبان کمانڈر عبداللہ محسود کا قریبی رشتہ دار ہیں جو فوج کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارئے گئے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز جنرل مشرف نے قوم سے اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ عدالت نے کچھ دہشت گردوں کو رہا کر دیا تھا جس کی بنا پر ان کے بقول ملک میں شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہوئی تھی۔

جنرل مشرف کی اس تقریر کے ایک دن بعد ہی قبائلی علاقوں میں پچیس مقامی طالبان کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

پاکستان کے جن فوجیوں کو اتوار کو رہا کیا گیا ان کو دو مہینے پانچ دن قبل طالبان نے یرغمال بنایا تھا۔