Sunday, 04 November, 2007, 17:20 GMT 22:20 PST
پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے سپریم کورٹ سینئر جج جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دے چکا ہے اور وہ آج بھی اپنےآپکو’آئینی اور قانونی‘ لحاظ سے جج تصور کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر انہیں عدالت نہ جانےدیا گیا تووہ واپس آ جائیں گے کیونکہ بطور جج وہ سڑکوں پر مظاہرہ نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور اس کا تعین حالات پرہوگا۔
رانا بھگوان داس نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے تھےکہ حکومت آئین معطل کر دے گی اور ملک میں پی سی او کا نفاذ کر دیا جائے گا۔
جنرل مشرف کی طرف عدلیہ کو ملک میں جاری دہشتگردی کی کارروائیوں کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش کے بارے میں کہا کہ جنرل مشرف کے الزامات ٹھیک نہیں ہیں۔ یہ الزام درست نہیں ہے۔عدلیہ آئین اور قانون کے دائرہ کار میں رہ کر کام کر رہی تھی۔‘
سپریم کورٹ کے کچھ ججوں کی طرف سے پی سی او کے تحت حلف لینے کےبارے میں رانا بھگوان داس نے کہا کہ ہر ایک کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے، ہرایک کا اپنا ضمیر ہے اور اس کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔
’میں اپنے کردار اور عمل سے مطمئن اور اگر غیر آئینی اقدام ہوتے ہیں تو اس کے ذمہ دار وہ اقدام لینے والے ہوتے ہیں ، ججز نہیں۔‘