Sunday, 04 November, 2007, 18:35 GMT 23:35 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پولیس نے انسانی حقوق کمیشن کے سیکرٹری جنرل اقبال حیدر اور ممتاز دانشور آئی اے رحمن کوشام کے وقت عاصمہ جہانگیر کی رہائش گاہ منتقل کردیا گیا ہے اور عاصمہ جہانگیر کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔
آئی اے رحمن کے صاحبزادے اشعر رحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد کو پولیس نے تقریبا پانچ گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد شام کو ماڈل ٹاؤن پولیس اسٹیشن سے عاصمہ جہانگیر کےگھر منتقل کیا ہے اور ان کی اپنے والد سے فون پر بات ہوئی ہے تاہم ان سے ملاقات پر پابندی ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کو روزنامہ ڈان صفحہ اول پر آئی اے رحمن کا ایک مضمون شائع کیا گیا تھا جس میں انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے حالیہ اقدام کو ملک کے سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا تھا اور مشورہ دیا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ سنیچر کو جاری ہونے والے احکامات کو ملکی سلامتی کی خاطر واپس لے لے۔
علاوہ ازیں سابق وزیر اور دانشور ڈاکٹر مبشر حسین پولیس نے رہا کردیا ہے۔ انہیں انسانی حقوق کمیشن کے دفتر سے گرفتار کیا گیا تھا۔
شہر میں نظربندیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان بارکونسل کے سابق وائس چئرمین حافظ عبدالرحمن انصاری اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون، پنجاب بارکونسل کے رکن نوید عنایت ملک، لاہور بار کے نائب صدر افتخار بھٹی سمیت متعدد وکلاء کوگرفتار کیا گیا ہے۔ کئی وکلا رہنما ممکنہ گرفتاریوں کے پیش نظر روپوش ہوگئے ہیں۔