Saturday, 03 November, 2007, 15:00 GMT 20:00 PST
پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ ایک ایسا بحران ہے جو اس سے پہلے نہ دیکھا نہ سنا اور ساٹھ سال میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔
نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کا حصہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام آج نہ اٹھے تو پھر دوبارہ اٹھنے کا وقت نہیں آئےگا۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ سب جعلی کارروائی ہو رہی ہے اور ایسا کرنے والے کل پچھتائیں گے۔ جو چنندہ ججز ہوں گے ان پر کون یقین کرے گا‘۔
اس سے قبل مسلم لیگ (ن) رہنما کے شہباز شریف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایمرجنسی کے نفاذ کو پاکستان کی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب قرار دیا۔بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’وہ ڈکٹیٹر جس نے آٹھ برس قبل شب خون مارا تھا اور جس نے کہا تھا کہ وہ ملک میں سچی جمہوریت لائے گا، آج آٹھ سال بعد سچی جمہوریت کا یہ عالم ہے کہ ملک میں ایک بار پھر آئین کو پاؤں تلے روند دیا گیا ہے‘۔
شہباز شریف نے سوال کیا کہ ’حالات کی خرابی کا کون قصور وار ہے۔ جنرل مشرف ملک کے صدر ہیں اور ان کا اپنا چنا ہوا وزیراعظم ہے۔ ان کی اپنی کابینہ ہے۔ وہ کس کو دوش دے رہے ہیں کس پر الزام دھر رہے ہیں‘۔
شہباز شریف کے مطابق ’یہ وقت ہے کہ صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ پوری قوم اس ایمرجنسی کے خلاف ڈٹ جائے۔ ہم اس ایمرجنسی کو کسی طور قبول نہیں کریں گے اور نہ چاہیں گے کہ فوج دوبارہ ملک کی سڑکوں پر آئے اور جو جرنیل اپنے ذات کے لیے اقتدار کو طول دینے کے ملک گروی رکھ دے‘۔
ایمرجنسی کے حوالے سے حزب اختلاف کے رہنما مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا صدر پرویز مشرف کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ متوقع تھا جو وہ غالباً حکومت کی خواہشات کے برعکس تھا اور اس کا راستہ روکنے کے لیے حکومت کے پاس شاید اور دوسرا کوئی راستہ نہیں رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت لاہور میں ہیں جس دوران خبر آئی کہ مختلف ٹی وی چینلز کی نشریات روک دی گئی ہیں۔ یہ ایمرجنسی عام ایمرجنسی جو دستور کے مطابق ہوتی ہے وہ نہیں ہے بلکہ اس سے ماورا اقدام کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حالات جس نہج پر جا رہے ہیں ان حالات میں ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ حکومت ایمرجنسی کے نفاذ کے راستے ڈھونڈ رہی ہے۔ یہ اندازے کافی عرصے سے سیاسی حلقوں میں لگائے جا رہے تھے۔