Saturday, 03 November, 2007, 07:23 GMT 12:23 PST
علی احمد خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاکستان
اب تازہ ترین یہ ہے کہ ملک میں مارشل لاء یا ایمرجنسی لگ سکتی ہے، جب اس سلسلے میں وزیراعظم شوکت عزیز سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے اور یہ بھی فرما دیا کہ جو بھی ہوگا آئین اور قانون کے مطابق ہوگا۔ ایک اور وزیر جناب فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ ایمرجنسی بھی لگ سکتی ہے اور انتخابات بھی ایک سال کے لیے ملتوی ہوسکتے ہیں بقول ان کے یہ بھی آئین اور قانون کے مطابق ہوگا۔
اس بے یقینی کا سبب وہ مقدمات بھی ہیں جو سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ ہر مقدمہ اتنی اہمیت کا حامل ہے کہ جو بھی فیصلہ آئے ہنگامہ خیز ہوگا چنانچہ صدر مشرف سمیت پورے ملک کی نظریں سپریم کورٹ کی جانب لگی ہوئی ہیں اور ایک سسپنس کی کیفیت ہے یعنی اگر یہ فیصلہ آگیا کہ صدر صاحب صدارت کے لیے نااہل ہیں، پھر کیا ہوگا۔ اگر یہ فیصلہ آگیا کہ مصالحتی آرڈیننس نافذالعمل نہیں ہوسکتا تو پھر کیا ہوگا۔اگر یہ فیصلہ آگیا کہ نواز شریف صاحب کو واپس بھیج کر عدالت کے فیصلے کی توہین کی گئی ہے اور انہیں فوراً واپس لایا جائے تو پھر کیا ہوگا اور اگر یہ فیصلہ آگیا کہ 18 اکتوبر کے سانحہ کی تحقیقات میں حکومت کے حساس ادارے ملوث ہیں تو پھر کیا ہوگا اور یہ سوال بھی لوگ اپنے آپ سے ہی کرتے ہیں جیسے اس ملک میں اب ان سوالوں کا جواب دینے والا کوئی رہا ہی نہیں۔
پاکستان اور امریکہ
جب صورت حال رو بہ زوال ہوتی ہے تو سونا چھؤو تو مٹی بن جاتا ہے، کچھ یہی صورتحال آج کل صدر مشرف اور حکومت پاکستان کی ہے جس چیز کو ہاتھ لگاتے ہیں خراب ہوجاتی ہے جس پتے پر تکیہ کرتے ہیں وہ ہوا دینے لگتا ہے۔ صدر منتخب ہوئے تو معاملہ عدالت میں چلا گیا اور جب تک حق میں فیصلہ نہیں آجاتا رات کی نیند اور دن کا چین سب حرام۔
نواز شریف کے داخلے پر پابندی لگائی تو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا دعویٰ دائر ہوگیا۔ پیپلز پارٹی کی جانب مصالحت کے لیے ہاتھ بڑھایا تو خود اپنی پارٹی والے ناراض ہوگئے۔ اب وہ دو کشتیوں میں پیر رکھے کھڑے نظر آتے ہیں اور دونوں مخالف سمت میں جا رہی ہیں۔
اخبار کے مطابق پاکستان کے فوجیوں کا کہنا ہے کہ کسی طرح شدت پسندوں نے یہ بھانپ لیا ہے کہ یہ چشمہ کب پاکستانی فوجیوں کے پاس نہیں ہوتا اور ان دو ہفتوں میں وہ علاقے میں آزادانہ گھومتے ہیں۔ اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کے فوجی حکام کو شکایت ہے کہ قبائلی علاقے میں شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے مزید ہیلی کاپٹروں، خصوصی چشموں اور دوسرے آلات کی ضرورت ہے اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جو فراہم کیے گئے ہیں ان کا ہی مناسب اور بھرپور استعمال نہیں ہو رہا ہے مزید کی فراہمی سے کیا فائدہ۔
پتہ نہیں واشنگٹن پوسٹ کی اس کہانی میں کتنی صداقت ہے لیکن یہ حقیقت ہے دونوں دوست فوجیوں میں اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا اس لیے کہ امریکی حکومت پاکستان سے وہ کچھ کرانا چاہتی ہے جو وہ خود گزشتہ چھ سال میں نہیں کرسکی اوراب خود امریکہ میں یہ محسوس کیا جانے لگا ہے کہ اگروہ موجودہ حکمت عملی پر عمل پیرا رہے تو شاید آئندہ چھ سال میں بھی وہیں رہیں گے جہاں آج کھڑے ہیں۔ ایسی صورت میں صدر پرویز مشرف پر مزید دباؤ ڈالنا ان کے ساتھ زیادتی ہے۔
![]() | |
| پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ محترمہ 8 نومبر کو وطن واپس آجائیں گی |
سوات وزیرستان بنتا جارہا ہے
وادی سوات میں وہی کچھ شروع ہوگیا جو وزیرستان میں کئی برسوں سے جاری ہے۔ فوجی یا حفاظتی اہلکار کارروائی کرتے ہیں اور پھر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے شدت پسندوں کا فلانے علاقے سے صفایا کردیا ہے۔ شدت پسند دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے اتنے اہلکار اغواء یا گرفتار کرلیے پھر جرگہ بیٹھتا ہے اور اغواء شدہ اہلکاروں کی رہائی کے لیے بات چیت ہوتی ہے جو کبھی ناکام ہوجاتی ہے اور کبھی کامیاب۔
ادھر ایک جرگے کی کوششوں سے شدت پسندوں نے48 اہلکاروں کوکل شام رہا کردیا جنہیں کل صبح اغواء کیا گیا تھا اور انہیں زاد راہ کے طور پر پانچ پانچ سو روپے کی رقم بھی دی ہے۔ اب یہ زاد راہ والی بات نئی ہے جو وزیرستان والوں کو اب تک نہیں سوجھی تھی۔
شدت پسندوں کے رہنما مولانا فضل اللہ پہلے اعلان کہہ چکے ہیں کہ جب تک ان کی شرطیں پوری نہیں ہوتیں وہ حفاظتی افواج کے خلاف چھاپہ مار اور خودکش حملے بھرپور طریقے سے جاری رکھیں گے اور ان کی شرطوں میں سب سے اہم شرط یہ ہے کہ سوات میں شرعی نظام نافذ کیا جائے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ شریعت کون سی ہوگی۔ اس لیے کہ شیعہ سنی کو نہیں مانتے، بریلوی دیو بندیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے، دیوبندی جماعت اسلامی سے ناراض ہیں اور علامہ مشرقی کے چاہنے والے خاکسار ان سب سے انکاری ہیں۔
جب ملک میں دیانتدار اور پرخلوص قیادت کا فقدان ہو تو سارے نظریات، سارے عقیدے اور سارے نعرے عوام کو بیوقوف بنانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ کبھی کبھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں روشن خیال اعتدال پسند ہوں یا نفاذ شریعت کے داعی سب عوام کو بیوقوف بنانے میں مصروف ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہتا ہے۔ ہمیشہ تو جاری نہیں رہ سکتا۔ بقول ابراہم لنکن’ کچھ لوگوں کو کچھ دنوں تک بیوقوف بنایا جاسکتا ہے لیکن سارے لوگوں کو ہمیشہ بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا‘۔