http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 03 November, 2007, 13:15 GMT 18:15 PST

بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاکستان

ایمرجنسی نافذ، آئین معطل، جسٹس چودہری برطرف، پریس پر پابندیاں

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے عبوری آئینی حکم(PCO) جاری کرتے ہوئے پورے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔ ملک میں سرکاری ٹی وی کے علاوہ دیگر نیوز ٹیلیویژن چینلز کی نشریات بند کر دی گئی ہیں، سرکاری موبائل فون کمپنی کا نیٹ ورک جام کر دیا گیا ہے اور شاہراہ دستور پر رینجرز تعینات کر دیے گئے ہیں۔

اسلام آباد: ہر طرف خاکی وردی
عبوری آئینی حکم ، متن تصاویر میں
ایمرجنسی کالعدم:سپریم کورٹ
ایمرجنسی کے خلاف وکلاء کی تحریک کا اعلان
ملک میں ایمرجنسی،آپ کی رائے
’ایمرجنسی پاکستانی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب‘

سرکاری ٹی وی چینل ’پی ٹی وی‘ کے مطابق پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف عبوری آئینی حکم جاری کرتے ہوئے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سرکاری ٹی وی نے یہ بھی بتایا ہے کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ملک کے نئے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ اس اعلان سے قبل مقامی میڈیا نے خبر دی تھی کہ چیف جسٹس افتحار محمد چودھری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین کو بھی ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے اور انہیں پاکستان لاء کمیشن واپس بھیج دیا گیا ہے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے ججوں کی جانب سے ایک حکم جاری ہوا تھا جس میں انہوں نے عبوری آئینی حکم کو کالعدم قرار دیا اور تمام فوجی اور سول حکام کو ہدایت دی ہے کوئی بھی پی سی او کے تحت خدمات سرانجام نہ دے اور نہ جج پی سی او کے تحت حلف اٹھائیں۔

اسلام آباد میں پولیس،رینجرز تعینات
اسلام آباد پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کو شاہراہِ دستور کے باہر واقع سفارت خانوں پر تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ عوامی مقامات پر بھی پولیس اہلکاروں کو سادہ کپڑوں میں تعینات کیا گیا ہے۔

اعتزاز احسن کی گرفتاری
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن کی اہلیہ نے بی بی سی بات کرتےہوئے بتایا کہ اعتزاز احسن کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتاری سے قبل بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء پیر سے احتجاج کریں گے۔

پاکستان میں گزشتہ چار روز سے ایمرجنسی یا مارشل لاء کے نفاذ کی باتیں تواتر کے ساتھ ہوتی رہی ہیں اور ان افواہوں میں تیزی آج اس وقت نظر آئی جب ایوان صدر میں جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں حکومت کے قانونی مشیروں نے بھی شرکت کی اور اطلاعات کے مطابق جنرل پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب کو خلاف آئین قرار دیے جانے کی صورت میں متبادل انتظامات کے بارے میں مشاورت کی گئی۔

اس سے قبل ملک میں امن و امان کی صورت حال پر غور کرنے کے لیے ایوان صدر میں ایک اہم اجلاس بھی ہوا جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور صدر جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھیوں نے شرکت کی جبکہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس میں پیمرا اور وزارت اطلاعات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی جس میں ملک میں نافذ العمل میڈیا پالیسی کا از سر نو جائزہ لیا گیا ہے۔

پریس پر پابندیاں
صدر جنرل پرویز مشرف نے پریس، اخبارات، خبر رساں اداروں اور کتب رجسٹریشن آرڈیننس2002ء میں ترمیم کرتے ہوئے پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈ بکس رجسٹریشن (ترمیمی) آرڈیننس 2007ء جاری کیا ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

وزارت قانون و انصاف کی طرف سے جاری کردہ آرڈیننس کے مطابق پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈ بکس رجسٹریشن آرڈیننس 2002ءمیں بعض ترامیم اور بعض شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر بی بی سی اردو سروس کے صبح کے پروگرام جہاں نما کے وقت میں اضافہ کیا گیا ہے اور اتوار کا ’جہاں نما‘ ایک گھنٹے پر مشتمل ہوگا اور پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے سے ساڑھے سات بجے تک نشر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر ساڑھے بارہ بجے بی بی سی اردو سروس ایک خصوصی پروگرام بھی پیش کرے گی۔

(نامہ نگار: اعجاز مہر، ہارون رشید اور شہزاد ملک)