Tuesday, 30 October, 2007, 06:35 GMT 11:35 PST
عبدالحئی کاکڑ، رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردوڈاٹ کام، مینگورہ، چکدرہ
ضلع سوات کی سیاسی پارٹیوں نے ایک اجلاس کے دوران حکومت اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک سات رکنی جرگہ تشکیل دیا ہے اور فریقین سے جنگی بندی برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ گزشتہ جمعہ کے روز سے شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد سیاسی جماعتوں نے حکومت اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان مصالحت کرانے کے لیے قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
منگل کی صبح سوات کے چکدرہ علاقے میں جماعت اسلامی کی جانب سے بلائے گئی آل پارٹیز کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز، پیپلز پارٹی شیر پاؤ، تحریک انصاف اور جمیعت علماء اسلام( ف ) کے مقامی رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں ضلع سوات میں پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور حکومت اور مقامی دینی عالم مولانا فضل اللہ درمیان مصالحت کرانے کے لیے ایک سات رکنی جرگے تشکیل دیا گیا۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اس جرگے کو وسعت دیکر اس میں ان دینی علماء کو شامل کیا جائے گا جنکے مولانا فضل اللہ کے ساتھ اچھے روابط ہیں۔
اجلاس میں منظور ہونے والی قراردادوں میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ملاکنڈ ڈویژن میں فیڈرل شرعی کورٹ قائم کرنے کے ساتھ مکمل شرعی نظام کا نفاذ کریں۔
سرحد حکومت پر تنقید |
اجلاس میں سیاسی پارٹیوں نے متحدہ مجلس عمل کی سابقہ صوبائی حکومت کو شدید تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے اقتدار میں پہنچ کر تقریباً پانچ سال تک سوات کے مسئلے کو نطر انداز کیا جسکے نتیجے میں آج پورے علاقے کو یہ برا دن دیکھنا پڑ رہا ہے۔
دوسری طرف مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج الدین نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئےسیاسی جماعتوں کی طرف سے تشکیل شدہ جرگے کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جرگے کے ساتھ ہرقسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ادھر سوات میں مبینہ مسلح عسکریت پسندوں نے اتوار کے روز ہونے والی شدید لڑائی کے دوران ہلاک ہونے والے سکیورٹی فورسز کے کم سے کم بیس اہلکاروں کی لاشیں مقامی افراد کی توسط سے حکومت کے حوالے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
صرف امن چاہیے |
مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج الدین نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے منگل کی صبح مقامی لوگوں کی توسط سے اتوار کو ہونے والی شدید لڑائی کے دوران سالنڈہ کے مقام پر ہلاک ہونے والے بیس اہلکاروں کی لاشیں حکام کے حوالے کردی ہیں۔ان کے بقول یہ لاشیں کھیتوں میں پڑی تھیں اور خراب ہونے کی وجہ سے انہوں نے انہیں حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ حکومت اب بھی اس بات سے انکاری ہے کہ اتوار کی لڑائی میں مسلح افراد کے ہاتھوں سکیورٹی فورسز کے بیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ صوبہ سرحد کے سیکرٹری داخلہ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ لڑائی میں سکیورٹی فورسز کے پانچ اہلکار ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت پرامن طریقے سے اپنی عملداری بحال کرنے کو ترجیح دے رہی ہے تاہم مزاحمت کی صورت میں طاقت کے استعمال سے کسی طور بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔ان کے بقول حالیہ جنگ بندی مبینہ مسلح عسکریت پسندوں کی طرف سے فائر بند ہونے کے بعد کی گئی ہے۔
مولانا فضل اللہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں ان کے مسلح افراد گشت کر رہے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز اپنی چیک پوسٹوں پر چوکس کھڑے نظر آرہے ہیں۔ منگل کی صبح گن شپ ہیلی کاپٹر نے امام ڈھیرئی مرکز کے اوپر مسلسل پروازیں کی ہیں۔
جنگ بندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لڑائی کی زد میں آنے والے علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔ سینکڑوں خاندان پیدل، گاڑیوں اور ٹرکوں میں محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔ان میں سے ایک شخص نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شدید لڑائی کے بعد ان کے لیے اپنے گاؤں میں مزید رہنا ممکن نہیں رہا ہے۔
ان کے بقول ’مبینہ عسکریت پسند اور حکومت دونوں ہماری نقل مکانی کے ذمہ دار ہیں۔ایسا لگ رہا ہے کہ لڑائی انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہورہی اور ہم بے گناہ لوگ ان کےدرمیان پھنس گئے ہیں۔ ہمیں صرف اور صرف امن چاہیے‘۔