Tuesday, 30 October, 2007, 14:24 GMT 19:24 PST
احمد رضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں کے بعد کراچی کے علاقے لیاری کے حصے میں سب سے زیادہ لاشیں آئیں لیکن شہر کے دوسرے علاقوں کے لوگ بھی اس دن اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دھماکوں کے ڈیڑھ ہفتہ کے بعد بھی مرنے والوں کے گھر والے غم سے نڈھال ہیں۔ ان سے گفتگو سے لگتا ہے کہ بم حملوں نے ان لوگوں سے ان کے پیاروں کو تو چھین لیا لیکن ان کی بینظیر بھٹو اور ان کی جماعت سے لگاؤ کو ختم نہیں کر سکے۔
کراچی کی بلوچ کالونی میں رہائش پذیر ساٹھ سالہ بخت بی بی کا بیس سال کا جوان نواسہ عامر بلوچ اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں میں چل بسا تھا لیکن اس واقعے کے بعد بھی ان کی پیپلز پارٹی سے وفاداری اور بینظیر بھٹو سے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’ہم کو یہ شہیدی نصیب میں لکھا تھا مگر بینظیر کو چھوڑتے نہیں ہیں۔ ابھی زیادہ اس کے واسطے کھڑا ہوتا ہے، زیادہ اپنی جان قربان کرتا ہے، وہ بھی ہمارا بیٹی کے جیسا ہے۔‘
بخت بی بی کے ان الفاظ کی تاثیر ان کے لہجے میں ہی محسوس کی جاسکتی تھی جو اس سوال پر بے ساختہ ادا ہوئے کہ ’کیا اس واقعے کے بعد بھی آپ پیپلز پارٹی کے جلسے جلوسوں میں جائیں گی؟‘
’کتنے سالوں بعد وہ (بینظیر) یہاں آئی تھی، ہم کو اس بات کی کتنی خوشی تھی، بتا نہیں سکتی، ہمارے لئے تو عید تھا۔ جب بینظیر جا رہی تھیں تو ہم سب عورتیں ڈانس کر رہی تھیں۔‘
لیکن پھر بھی ان کو اپنا نواسہ یاد آتا ہے۔ ’وہ ایک ہیرا تھا، اس کا باپ دل کا مریض ہے، چھوٹا چھوٹا بہن بھائی ہے، وہ یہاں فیکٹری میں کام کرتا تھا اور بہن بھائیوں کا پیٹ پالتا تھا۔ اب وہ نہیں ہے پھر بھی ہم بینظیر کے واسطے (کے ساتھ) کھڑے ہیں۔‘
عامر بلوچ کے چچا پیر بخش پیپلز پارٹی سے اپنی وابستگی کو تو ایک اٹل حقیقت کہتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک بہت بڑا سبق ہے اور اسکے بعد وہ بڑے احتیاط سے کام لیں گے۔ ’پیپلز پارٹی تو ظاہر ہے ہمارے دل سے نہیں نکل سکتی، وہ تو ہمارے دل، دماغ، جان کے اندر بسی ہوئی ہے۔ بہرحال ہمارا کوئی سیفٹی نہیں ہے ہم محفوظ نہیں ہیں، جس کو چاہے ووٹ دو مگر اس طرح کے فنکشن میں میرا دل تو نہیں مانتا کہ میں اپنے بچوں کو بھیجوں۔‘
سعید غنی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد ڈر جانا حملہ آوروں کے مقاصد کو کامیاب بنانے کے مترادف ہے۔ ’موت آنی ہے جی، کسی نہ کسی صورت تو آہی جاتی ہے، اس طرح نہیں مارے جائیں گے تو کسی اور طرح مرجائیں گے لیکن کم سے کم کسی مقصد کے لئے جان دیں تو زیادہ اچھا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ایک آپشن یہ ہے کہ ہم چپ کر کے بیٹھ جائیں اور جس طرح وہ چاہ رہے ہیں اس طرح کریں اور دوسرا آپشن یہ ہے کہ مزاحمت کریں اور سرینڈر نہ کریں۔ ’چپ کر کے بیٹھ جائیں اور خوفزدہ ہوجائیں تو بھی یہ مسئلے کا حل تو نہیں ہے۔‘
سعید غنی کی اہلیہ نائلہ بم حملے کے وقت اپنی آٹھ ماہ کی بچی اور والدہ کے ساتھ بے نظیر کی استقبالیہ ریلی میں شریک تھیں اور دھماکوں کی جگہ سے کچھ زیادہ دور بھی نہیں تھیں لیکن محفوظ رہیں۔ ان کے خیالات بھی اپنے شوہر سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔
![]() | |
| ہم خوفزدہ نہیں ہونگے: نائلہ |
لیاقت اشرف کالونی کے مکین 19 سالہ ایاز علی کا آبائی علاقہ تو بلتستان ہے لیکن پیدائش کراچی کی ہے کیونکہ ان کے والدین ان کی پیدائش سے قبل ہی یہاں آکر آباد ہوگئے تھے۔ ایاز بھی پیپلز پارٹی کے کارکن تھے اور بم حملے میں ہلاک ہوگئے۔ ان کے بڑے بھائی نیاز علی بھی اس واقعے پر غمزدہ ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ شہداء کا خون رنگ لائے گا۔
’ایک بلوچ قوم اور ایک بلتستانی قوم، اس قوم کے اگر ماں کے پیٹ میں بھی بچہ ہے تو وہ جئے بھٹو کا نعرہ لگاتا ہے تو ہماری قوم تو ایسی قوم ہے جس کے اوپر تو شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے احسانات ہیں۔ انہوں نے ڈوگرا راج ختم کیا تھا تو ہمیں یقین ہے کہ ان شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔‘