Monday, 29 October, 2007, 04:47 GMT 09:47 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سوات
صوبہ سرحد کے شمالی ضلع سوات میں پیر کی صبح مقامی عسکریت پسندوں کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ ان کے اور سکیورٹی فورسز کے درمیان عارضی جنگ بندی ہو گئی ہے۔
عسکریت پسندوں کی طرف سے یہ اعلان ان کے رہنما مولانا فضال اللہ کے
ساتھی مولانا شاہ دوراں نے ان کے ایف ایم ریڈیو چینل پر کیا۔ مولانا شاہ دوراں نے کہا کہ وفاقی وزیر امیر مقام نے ان سے رابطہ کیا ہے جس کے بعد جنگ بندی ہوئی۔ عارضی جنگ بندی کی حکومتی ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
جنگ بندی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ فریقین اپنے اپنے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں اٹھا لیں۔ ریڈیو پر یہ بھی بتایا گیا کہ سکیورٹی فورسز کے ایک حملے میں ایک بچہ، ایک عورت اور تین عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔
اس طرح لڑائی میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم سے کم انتیس ہو گئی ہے جن میں وہ آٹھ اہلکار بھی شامل ہیں جن کے گلے کاٹ کر ہلاک کیا گیا تھا۔ لڑائی کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔
عارضی جنگ بندی کے اعلان سے قبل رات گئے تک گولہ باری کا سلسلہ جاررہا۔
اتوار کو کئی مقامات پر قانون نافذ کرنے والےاداروں اور مسلح عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کا سلسلہ دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہا۔
ہسپتال کے ذرائع نے بتایا تھا کہ اتوار تک پانچ زخمی ان کے پاس علاج کے لیے آئے تھے جن میں دو صحافی اور ایک سکیورٹی اہلکار شامل تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی اہلکار کے مطابق زخمیوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن راستے بند ہونے کی وجہ سے وہ ہسپتال تک نہیں پہنچ پا رہے۔