http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 29 October, 2007, 11:25 GMT 16:25 PST

انتخاب امیر، حئی کاکڑ
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام ،پاکستان

سوات میں عارضی فائربندی جاری

سوات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور مسلح عسکریت پسندوں کے درمیان چار روز سے جاری جھڑپیں رک گئی ہیں۔

غیر سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت کو مطلوب کالعدم تحریک ِ نفاذِ شریعت ِ محمدی کے اہم رہنما مولانا فضل اللہ کے نائب شاہ دوران نے پیر کی صبح ایف ۔ ایم ۔ ریڈیو کے ذریعے اعلان کیا کہ انتظامیہ کے ساتھ فائربندی کا معاہدہ ہوا ہے تاکہ اتوار کو ہونے والی جھڑپوں میں زخمی ہونے والوں کو علاج کے لیے ہسپتال پہنچایا جا سکے ۔

سوات میں آخر کیا ہو رہا ہے :آپ کی رائے

ذرائع کے مطابق اس اعلان کے بعد سے علاقے میں تاحال امن ہے اور کسی جانب سے فائربندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

پشاور میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے کمانڈنٹ ملک نوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فائر بندی کے معاہدے کے بارے میں کہا کہ ’ جب عسکریت پسند فائر نہیں کرتے تو فائرنگ رک جاتی ہے بصورتِ دیگر ہماری جانب سے جوابی فائرنگ کی جاتی ہے‘۔

جنگ بندی کے باوجود سوات کے مختلف علاقوں میں ہیلی کاپٹروں نے دوبارہ پروازیں شروع کر دی ہیں۔ جنگ بندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مینگلور اور سالنددہ کے علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ محفوظ مقامات پر پہنچ رہے ہیں۔

غیر سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شاہ دوران کے فائر بندی کے اعلان کے بعد سے کافی بڑی تعداد میں لوگوں نے امام ڈھیری ، بر بانڈہ اور ملحقہ دیہاتوں سے نقل مکانی کی ہے اور اتوار کے روز زخمی ہونے والوں کو علاج کے لیے ہسپتال لےجایا گیا ہے ۔

البتہ ڈسٹرکٹ ہسپتال مینگورہ / سوات کے ایک شعبہ ءِ حادثات میں کام کرنے والے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پیر کی صبح دو زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا جن میں سے ایک عام شہری اور ایک ایف سی اہلکار تھا ۔ اور دونوں کو معمولی زخم آئے تھے ۔

فوج کے شعبہءِ تعلقات ِعامہ نے اتوار کی جھڑپوں کے حوالے سے دعوٰی کیا تھا کہ نیم فوجی دستوں کی جوابی کاروائی کے نتیجے میں دس عسکریت پسند ہلاک ہوئے ۔البتہ ہسپتال کے ذرائع کے مطابق ان میں سے کسی ایک کی بھی لاش ہسپتال نہیں لائی گئی ۔

انہوں نے کہا کہ سوات میں حالات قابو میں ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس عسکریت پسندوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ’فائر پاور‘ ( طاقت ) ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طاقت کا استعمال اس لیے نہیں کر رہی کیونکہ ایسا کرنے سے عام شہریوں کی ہلاکت کا خطرہ ہوتا ہے ۔

دوسری جانب غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق ، فضا گٹ سے خوازہ خیلہ کو جانے والی بڑی شاہراہ اتوار کی صبح سے ہر قسم کے ذرائع آمد ورفت کے لیے بند ہے ۔ اس سڑک کو اتوار کی صبح اُس وقت بند کردیا گیا تھا جب فرنٹیئر کور ، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پولیس کے دستوں پر مشتمل ایک قافلہ مینگورہ کے قریب واقع فضا گٹ سے عسکریت پسندوں کے مضبوط گڑھ تصور کیے جانے والے علاقے خوازہ خیلہ کی جانب روانہ ہوا ۔

اس قافلے پر پہلے منگلور اور پھر کوٹ کے علاقے میں عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی جس کے جواب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے جوابی کاروائی کی ۔اس دوران فضا سے نگرانی کرنے والے ہیلی کاپٹروں سے بھی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ۔

اتوار کے روز جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں فوج کے شعبہ تعلقات ِ عامہ نے دعویٰ کیا تھا کہ فضا گٹ سے روانہ ہونے والے نیم فوجی اور پولیس کے دستوں نے منگلور اور کوٹ کے علاقوں کو عسکریت پسندوں سے خالی کرالیا اور ان علاقوں میں حکومت نے حالات کو قابو میں لے لیا ہے ۔

غیر سرکاری ذرائع کے مطابق سوات کے علاقہ مٹہ میں ایک مقامی مذہبی رہنما ء مولانا رشید احمد نے پیر کی صبح ایف ایم نشریات کے ذریعے اعلان کیا کہ علاقے میں امن کے قیام اور معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے وہ ایک جلسہ منعقد کریں گے۔

جس کے بعد ، غیر سرکاری ذرائع کے مطابق ، باغ ڈھیری کے علاقے میں منعقد ہونے والے اس جلسہ میں علاقے کے عوام نے شرکت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سابقہ حکومتوں کے اعلانات کی روشنی میں صوبائی حکومت کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (پاٹا) میں شریعت کے نفاذ کو عملی جامع پہنائے اور امن کے قیام کے لیے جلد از جلد علاقے میں شریعت ریگولیشن مجریہ انیس سو نناوے کو نافذ کرے ۔ اور اسلامی قوانین کی روشنی میں سستے اور آسان انصاف کو یقینی بنایا جائے ۔