http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 29 October, 2007, 14:32 GMT 19:32 PST

عباس نقوی
کراچی

بم دھماکوں کی جگہ کویادگارکا درجہ

پیپلزپارٹی کی ریلی میں ہونے والے بم دھماکوں کو کراچی کی حالیہ تاریخ کی بدترین پرتشدد کارروائی قرار دیا جاتا ہے جس میں ایک سو چالیس سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے، شاہراہِ فیصل پراس مقام پرجہاں اٹھارہ اکتوبر کو بم دھماکے ہوئے ایک یادگار بنا دی گئی ہے۔

شاہراہِ فیصل سے برق رفتاری کے ساتھ گزرنے والی گاڑیوں میں سوار افراد کی توجہ ایک لمحے کے لئے کار ساز پل کے قریب اس مقام پر ضرور مرکوز ہوتی ہے۔
جہاں اٹھارہ اکتوبر کی شب سابق وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو کی استقبالی ریلی میں اُس وقت دو بم دھماکے ہوئے تھے۔

ان دھماکوں میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوئی تھی جبکہ پی پی پی کی تاحیات چئرپرسن بلُٹ پروف ٹرک میں سوار ہونے کی وجہ سے محفوظ رہی تھیں۔

اب یہ مقام ایک یادگار کا درجہ اختیار کرتا جارہا ہے، اس مقام پر ہلاک ہونے والوں کے ورثاء اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے دونوں شاہراہوں کے درمیان بنی گرین بیلٹ کے ایک حصے کو رسی لگا کر مقامِ عقیدت قرار دے دیا اور اُس کے چاروں جانب چراغ نصب کردیے ہیں۔

یہاں کوئی چراغاں کر کے اپنے پیاروں کو یاد کرتا ہے تو کوئی گلُ پوشی کرتا ہے اور کوئی یہاں مرنے والوں کو خراجِ تحسیں پیش کرنے کے لئے گلدستے رکھتا ہے اور اگربتیاں جلاتا ہے۔

اس مقام پر پیپلزپارٹی کے جھنڈوں کے ساتھ ایک بینر بھی لگا ہوا ہے جس پر یہ شعر تحریر ہے۔
ہم تو جان کا نذرانہ دے کر عہدِ وفا نبھائیں گے
آپ بتائیں آپ کہاں تک جائیں گے

پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر راشد ربانی نے بتایا کہ یہ یادگار پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے اپنے طور پر بنائی ہے اور آنے والے وقت میں پارٹی کی جانب سے اس مقام پر شہداء کی ایک باقاعدہ یادگار تعمیر کی جائے گی۔