http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 28 October, 2007, 08:37 GMT 13:37 PST

دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ڈیرہ اسماعیل خان

فوج نے قبضہ نہیں کیا:کمانڈر ٹانک

پاکستان فوج کے قائم مقام کمانڈر ٹانک برگیڈئر عظمت خان نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوج سول فورسز کی معاونت کے لیے آئی ہے۔سول حکومت جب چاہےگی فوج واپس چلی جائے گی۔

گزشتہ روز صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ ٹانک ، منزائی اور بنوں کے دورے کے دوران انہوں نے بتایا کہ ٹانک میں فوج نے پولیٹکل انتظامیہ کے دفتر پر کوئی قبضہ نہیں کیا۔ صحافیوں کے اس دورے سے چند دن پہلے جنوبی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ اور قبائلی عمائدین نے ایک اخباری بیان میں الزام لگایا تھا کہ ٹانک میں فوج نے جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل کمپاؤنڈ پر قبضہ کرلیا ہے۔

قبائلی عمائدین کا کہنا تھاکہ ٹانک میں پولیٹکل انتظامیہ کے دفتر کی حدود میں فوج کی موجودگی پراعتراض کی وجہ خوف ہے کیونکہ عملے کی رہائش گاہیں بھی وہاں پر موجود ہیں۔انہیں ڈر ہے کہ فوج پر حملے کی صورت میں وہ بھی نشانہ بن جائیں گے۔

فوجی کمانڈر نے کہا کہ ٹانک میں صرف تین کمروں میں فوج رہائش پذیر ہے۔جو ایک ریسٹ ہاؤس ہے جبکہ ایک بیکار اصطبل کو صاف کرکے اس استعمال کیا جارہا ہے اور فوجی خیموں میں رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالات خراب ہونے پر ہمیں سابق وزیراعلٰی سرحد اکرام خان دورانی نے طلب کیا تھا۔اور ہم ان کی اپیل پر ٹانک آئے تھے

ان کے مطابق ہر یونٹ میں چار سو سے پانچ سو جوان موجود ہیں۔جن میں سے زیادہ تر اہلکار خیموں میں مقیم ہیں۔اور ان کی جان کو ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کے آنے سے پہلے ٹانک میں بینک لوٹے گئے ، پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کے خاندان کو قتل کیا گیا اور عوام کو خوف ہراس میں مبتلا کیاگیا برگیڈئر عظمت خان کا کہنا تھا کہ اگر فوج بروقت نہ آتی تو حالات مزید بگڑ سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ٹانک میں ازبک باشندوں سمیت کئی غیر ملکی مقیم ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ غیر ملکی فوج پر حملے کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں مجبوراً ایکشن لینا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی فوج اپنے عوام کو نہیں مارنا چاہتی لیکن جب یہ غیر ملکی فوجی اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں اور انہیں اغواء کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تومجبوراً ایکشن لینا پڑتا ہے‘۔