Sunday, 28 October, 2007, 15:17 GMT 20:17 PST
انتخاب امیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے شمالی ضلع سوات میں اتوار کو کئی مقامات پر قانون نافذ کرنے والےاداروں اور مسلح عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کا سلسلہ دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہا۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل وحید ارشد کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں دس عسکریت پسند منگلور کے مقام پر ہلاک ہوئے ۔ صوبائی حکومت ، سوات ہسپتال یا کسی اور ذرائع سے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی جا سکی ۔
جبکہ اس سے پہلے نیم فوجی قافلے کے اپنی منزل کی جانب سفر کے دوران ہیلی کاپٹر ’ بل- فور ٹو ون‘ مسلسل فضاء سے فضاءگٹ منگلور روڈ کی نگرانی کرتے رہے ۔
صوبہ سرحد کے سیکریٹری داخلہ بادشاہ گل وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی صبح فرنٹیئر کور ، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پولیس کے دستوں پر مشتمل ایک قافلہ سوات کے علاقے فضاء گٹ سے خوازہ خیلہ کی جانب رواں تھا کہ اس کو منگلور پہنچنے پر عسکریت پسندوں نے حملے کا نشانہ بنایا جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی ۔
عینی شاہدین کے مطابق اس موقع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے شدید جوابی کاروائی کی گئی اور عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری بھی کی گئی ۔
البتہ سوات کے مقامی صحافیوں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی جانے والی گولہ باری اور فائرنگ اس قدر شدید تھی کہ مرنے والے عسکریت پسندوں کی تعداد فوج کے ترجمان کی اعلان کردہ دس ہلاکتوں سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے ۔
عسکری ذرائع کے مطابق نیم فوجی دستوں اور پولیس پر مشتمل دستوں کا قافلہ جب فضا ءگٹ سے منگلور کی جانب روانہ ہوا تو سڑک دیگر ذرائع آمدورفت کے لیے بند کر دی گئی اور سڑک کے اردگرد بازار میں دکانیں بھی بند رہیں ۔
جب سیکریٹری داخلہ سے پوچھا کہ کیا اس موقع پر کرفیو لگا دیا گیا تھا تو انہوں نے کہا کہ ایسی صورتِحال میں لوگ خود ہی بازار بند کردیتے ہیں ۔
گو کہ سرکاری ذرائع کی جانب سے سوات میں حالات کو قابو میں لانے اور بعض علاقوں کو عسکریت پسندوں کے کنٹرول سے آزاد کرانے کی دعوے کیے گئے ہیں البتہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق ضلع سوات کے علاقے مٹہ اور خوازخیلہ میں صورتحال اتوار کے روز کشیدہ رہی ۔
ذرائع کے مطابق عسکریت پسند چارباغ اور خوازخیلہ کے علاقوں میں جمع ہو رہے ہیں جبکہ مٹہ – مینگورہ روڈ کے اردگرد واقع دیہاتوں کے داخلی راستوں پر عسکریت پسندوں نے چیک پوسٹیں بنا لی ہیں اور ان دیہاتوں میں داخل ہونے والے افراد کی تلاشی لی جا رہی ہے ۔
دریں اثناء حکومت کو مطلوب کالعدم تحریکِ نفاذ ِ شریعتِ محمدی کے ایک اہم رہنما مولانا فضل اللہ کے نائب سراج الدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گاؤں امام ڈھیری میں واقع اُن کے گھر کو ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کرکے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں اُن کے گھرسمیت اردگرد کے چار دیگر گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
فوج کے تعلقات عامہ کے شعبہ کے ایک اعلامیے کے مطابق نیم فوجی دستوں نے اتوار کے روز فضا گٹ سے لے کر منگلور تک کے علاقے کو عسکریت پسندوں سے خالی کرا لیا اور اُنہیں ان علاقوں سے نکال دیا ۔
البتہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق چار باغ ، مٹہ اور خوازخیلہ میں عسکریت پسند اپنے ٹھکانے مضبوط کر رہے ہیں ۔ اتوار ہی کے روز سوات کے علاقے سیرتلیگرام میں واقع ایک خالی پولیس پوسٹ کو چند عسکریت پسندوں نے دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا اس پوسٹ کو چند روز پہلے ہی پولیس نے علاقے میں شدت پسندوں کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرے کے پیش ِ نظر خالی کردیا تھا ۔