Saturday, 27 October, 2007, 17:06 GMT 22:06 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سوات
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حالیہ ماہ کے دوران تشدد کی بڑھتی ہوئی صورتحال کے باعث پاکستان کی سوئٹزز لینڈ کہلانے والی وادی میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد کا سلسلہ تقریباً ختم ہو کر رہ گیا ہے جبکہ علاقے میں دیگر تجارتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
پہاڑوں کے دامن میں واقع قدرت کے حسین نظاروں سے مالامال وادی سوات کی آبادی تقریباً سولہ لاکھ نفوذ پر مشتمل ہے۔ چند سال قبل تک یہاں کے لوگوں کی تجارت کا سب سے بڑا ذریعہ سیاحت کو سمجھا جاتا تھا تاہم گزشتہ دو برسوں کے دوران علاقے میں تشدد اور بالخصوص طالبائزیشن میں اضافے کی وجہ سے یہ صنعتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
سوات میں کانٹینیٹل ہوٹل کے مینیجر شوکت علی نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبانئز یشن کے منفی اثر نے ہوٹلنگ کے کاروبار کو ختم کرکے رکھ دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا:’پہلے یورپی ممالک اور اندورن ملک دور دراز علاقوں سے بڑی تعداد میں سیاح سوات آتے تھے لیکن جب سے یہاں مذہبی عناصر کے اثر رسوخ میں اضافہ ہوا ہے، سیاحوں کی تعداد میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ اس سیزن میں ہوٹلنگ اور ٹور آپریٹرز کا کاروبار پانچ سے دس فیصد رہا جبکہ کسی زمانے میں یہ اسی سے نوے فیصد ہوا کرتا تھا۔
![]() | |
| کشیدگی کے باعث چھوٹے تاجر بھی سخت مشکلات سے دوچار ہیں |
انہوں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ مقامی انتظامیہ علاقے کی غیر یقینی صورتحال کا کوئی نوٹس نہیں لے رہی ہے جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
سوات میں جمعرات کو سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر بم حملے کے بعد علاقے میں تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے تاحال غیر اعلانیہ طورپر بند ہیں جس کی وجہ سے طلباء وطالبات کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی کالج کے ایک طالب علم سہیل نے بتایا کہ ان کے امتحانات میں چند ہی دن باقی ہیں لیکن کالج اور دیگر تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت تک کے لیے بند ہیں جس کی وجہ سے ان کی ذہنی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مینگورہ میں گزشتہ تین دنوں کے دوران سرکاری دفاتر میں اعلیٰ سول اہلکار کم ہی نظر آئے جس سے حکومت اور مقامی افراد کے درمیان ایک خلاء سا پیدا ہو رہا ہے۔
مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامیوں نے بھی شکایت کی ہے کہ علاقے میں حالیہ کشیدگی کو حل کرانے کےلیے مقامی انتظامیہ نے تاحال ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے جس سے ان کے مطابق مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید پیچیدگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ وہ اس بات پر مشتعل ہیں کہ مقامی انتظامیہ کی موجودگی میں تمام معاملات کو اسلام آباد اور پشاور سے کیوں کنٹرول کیا جارہا ہے۔