Saturday, 27 October, 2007, 18:26 GMT 23:26 PST
ارمان صابر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں سندھ پولیس نے دعوٰی کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی آمد سے قبل صوبائی محکمۂ داخلہ کو ایک خط ملا تھا جس میں لکھا تھا کہ اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کی ریلی میں خودکش دھماکے کرنے کے لیے حملہ آور وزیرستان سے کراچی پہنچ چکے ہیں۔
یہ اعلامیہ سندھ پولیس نے ایک ایسے وقت جاری کیا ہے جب وزیرِاعظم پاکستان شوکت عزیز کراچی کے دو روزہ دورے پر ہیں اور انہیں بم دھماکوں کی تحقیقات میں پیش رفت کے حوالے سے اتوار کو ایک بریفنگ بھی دیے جانے کا بھی امکان ہے۔
یہ اعلامیہ سندھ پولیس کی ویب سائٹ پر سنیچر کو آویزاں کیا گیا ہے لیکن اس کی جاری کردہ تاریخ بیس اکتوبر درج ہے۔
اعلامیہ کے مطابق اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کی ریلی میں کارساز موڑ کے قریب دو دھماکے ہوئے تھے جن میں سے پہلے دھماکے میں استعمال ہونے والا بم پانچ کلوگرام وزنی جبکہ دوسرے دھماکے میں استعمال ہونے والا بم بیس کلوگرام وزنی تھا جس میں ایک سو چالیس سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں دوسرے زخمی ہوئے تھے۔
تاہم اعلامیہ میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ یہ خط محکمۂ داخلہ کو کب ملا تھا اور کس کی جانب سے بھیجا گیا تھا۔ سندھ پولیس نے اس خط کی بنیاد پر اس مؤقف کو اپنانے کی کوشش کی ہے کہ ان بم دھماکوں کا تانہ بانہ وزیرستان سے جا ملتا ہے۔
واضح رہے کہ پولیس کی ایک خصوصی ٹیم ڈی آئی جی سی آئی ڈی سعود مرزا کی سربراہی میں ان بم دھماکوں کی تحقیقات کر رہی ہے جسے بم دھماکوں کے مقام سے دو سر ملے ہیں اور پولیس کا خیال ہے کہ یہ دونوں سر مشتبہ خود کش حملہ آوروں کے ہیں جن کی شناخت اب تک ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مشیرداخلہ وسیم اختر نے سنیچر کو بی بی سی کو بتایا کہ تفتیشی عمل جاری ہے لیکن اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ اس سلسلے میں کوئی اجلاس بھی نہیں ہوا ہے۔