Friday, 26 October, 2007, 04:17 GMT 09:17 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
صوبہ سرحد کی نگران کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سوات میں امن جرگہ کی تجاویز اور مطالبات کے مطابق وہاں امن قائم کرنے کےلئے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے اور کسی بھی طاقت کا استعمال سے گریز کیا جائے۔
یہ فیصلہ جمعرات کی شام پشاور میں سرحد کی نگران کابینہ کے ایک خصوصی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت نگران وزیراعلی شمس الملک نے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر امیر مقام نے خصوصی طورپر شرکت کی۔
وزیراعلی سیکریٹریٹ سے جاری ہونے ایک بیان کے مطابق اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ سوات میں امن کے قیام کے لئے امن وامان خراب کرنے والے عناصر کو بھی عملی اقدامات لینے ہونگے جبکہ عوامی مطالبات کی روشنی میں مقامی سطح پر بات چیت کو اہمیت دی جائے اور صوبائی اسمبلی کے منظور شدہ صوبائی شریعت ایکٹ مجریہ 2003 کو پاٹا تک پھیلانے کےلئے قابل عمل تجاویز مرتب کئے جائیں۔
کابنیہ نے ملاکنڈ اور سوات میں نظام عدل ریگولیشن آرڈیننس کو عملی طورپر لاگو کرنے اور اس سلسلے میں قانونی سقم کو ختم کرنے کےلئے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاروت کرنے کی تجویز دی جبکہ غلام دستگیر اے سی ایس کی سربراہی میں اعلی سطح کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جس میں ممبران قانون، داخلہ، اسٹبلشمینٹ کے سیکرٹریز اور ایڈوکیٹ جنرل شامل ہیں۔
کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے وہ جلد از جلد اپنی سفارشات مرتب کرکے وزیراعلی کو رپورٹ پیش کریں تاکہ عوام کو فوری انصاف فراہم کیا جاسکے۔
اجلاس میں علاقے میں ایف ایم ریڈیو قائم کرنے کی تجویزبھی زیر غور آئی۔ اس طرح اجلاس میں معاونین شریعت کورٹ کی تعیناتی اور عدالتوں میں قاضیوں کی تعیناتی کی تجویز پر غور خوض ہوا۔
اجلاس میں صوبائی وزراء نے صاف وشفاف الیکشن کے انعقاد اور سوات میں امن وامان کو یقینی بنانے کےلئے صوبائی وزیراعلی سے مقامی و صوبائی تمام سیاسی پارٹیوں کے اکابرین سے رابط کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔