Thursday, 25 October, 2007, 17:51 GMT 22:51 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں بم دھماکہ کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ہلاک ہونے افراد کے جسم کے اعضاء دور تک سڑک پر بکھر گئے جبکہ دھماکے کی آواز اتنی زوردار تھی کہ جیسے علاقے میں ہوائی جہازوں سے بمباری کی گئی ہو۔
دھماکے کے پانچ منٹ بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے مقامی صحافی شرین زادہ کانجو نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ سوات پولیس لائن سے تقریباً سو گز کے فاصلے پر ہوا۔
انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ کے اطراف میں فرنیچر کی دوکانیں ہیں جبکہ ایک سروس سٹیشن بھی ہے جس میں عام شہری بھی ہلاک و زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق ’چونکہ دھماکہ اسلحہ سے بھرے ہوئے ٹرک میں ہوا تھا اس لیے اس میں آگ لگ گئی جس سے کئی لاشیں جھلس گئیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ زخمی خاصی دیر تک گاڑی میں مدد اور امداد کےلیے چیختے رہے لیکن کوئی جائے وقوعہ کی طرف نہیں بڑھ رہا تھا کیونکہ گاڑی میں اسلحہ اور بارود میں آگ لگنے سے وہاں وقفے وقفے سے چھوٹے چھوٹے دھماکے ہوتے رہے جس سے علاقے میں خوف و ہراس بڑھتا رہا۔‘
صحافی کے مطابق زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کےلیے بھی ایمبولینس گاڑیاں نہیں تھیں جسکی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا رہا جبکہ مقامی لوگوں نے زخمیوں کو جائے وقوعہ سے نکالنے میں سکیورٹی فورسز کی بڑی مدد کی۔
دھماکے کے ایک اور عینی شاہد پولیس اہلکار طاہر عثمان نے بتایا کہ دھماکے کے وقت وہ پولیس لائن کے قریب واقع عمارت میں ڈیوٹی دے رہے تھے کہ اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے کچھ دیر کےلیے ایسا لگا جیسے آسمان پھٹ پڑا ہو اور ہر طرف اندھیرا سا چھا گیا ، وہاں پر موجود لوگوں کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہوگیا ہے۔‘
’میں نے جائے وقوعہ کی طرف دیکھا تو وہاں ہر طرف دھواں اور آگ لگی ہوئی تھی، زخمی چیخ رہے تھے دھماکوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے پولیس لائن پر حملہ کردیا ہو۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے فضائی بمباری ہورہی ہو۔‘