Thursday, 25 October, 2007, 11:03 GMT 16:03 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی پر بم حملے میں کم سے کم بیس اہلکار ہلاک اور چونتیس زخمی ہوگئے ہیں۔
تاہم مینگورہ سول ہسپتال کے ڈاکٹر ظفر اللہ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ ’ہمارے ریکارڈ میں اکیس لاشیں موجود ہیں۔‘
دھماکہ گزشتہ روز سوات میں سکیورٹی فورسز کی بھاری تعداد میں تعیناتی کے بعد ہوا تھا۔
اس سے قبل سوات سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ دھماکہ جمعرات کو دوپہر کے وقت سوات پولیس لائن کے قریب اسلحہ سے بھرے ہوئے ایف سی (فرنٹیئر کانسٹبلری) کی ایک گاڑی میں ہوا جس میں حکام کے مطابق 43 کے قریب ایف سی جوان سوار تھے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے سے گاڑی میں آگ لگ گئی جس سے قریب واقع پندرہ سے بیس دکانوں اور درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے میں ہلاکتوں کے حوالے سے متضاد اطلاعات مل رہی ہیں۔
سوات کی مقامی انتظامیہ نے دھماکے میں اٹھارہ افراد کی ہلاکت اور 28 کی زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم ہسپتال اور دیگر ذرائع نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس بتائی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ پانچ عام شہری بھی شامل ہیں۔
موقع پر موجود ایک مقامی صحافی شرین زادہ کانجو نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے سامنے آٹھ لاشوں کو جائے وقوعہ سے نکالا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاڑی میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا جو پہلے دھماکے کے ساتھ ہی پھٹ پڑا جس سے کافی دیر تک جائے وقوع پر چھوٹے چھوٹے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
ان کے مطابق اگ لگنے سے کئی لاشیں جل گئیں ہیں جبکہ انسانی اعضاء دور دور تک سڑک پر بکھرے ہوئے پڑے تھے۔ جان بحق ہونے والوں کی لاشیں اور زخمیوں کو سید و شریف ہپستال منتقل کیا گیا ہے۔
سوات کے ضلعی پولیس افسر اختر حیات گنڈاپور نے جائے وقوعہ سے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کی شدت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں حتمی رائے ابتدائی تفتیش کے بعد ہی قائم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود کش حملے کے علاوہ گاڑی میں موجود اسلحہ بارود بھی دھماکے کی وجہ ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واقعہ کی مزید تفصیلات بتانے سے معذوری ظاہر کر دی۔
دھماکے کے بعد اعلیٰ پولیس و سول حکام موقع پر پہنچے اور اردگرد کے علاقوں کو سیل کردیا گیا جس سے قریبی علاقوں میں کئی گھنٹوں تک سڑکیں عام ٹریفک کےلیے بند رہیں۔
ادھر سوات میں مذہبی عالم مولانا فضل اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کچھ دنوں کےلیے ضلع کوہستان منتقل ہوگئے ہیں۔
مولانا فضل اللہ کے ایک قریبی ساتھی اور سوات میں علماء شوری کے رکن مسلم عبد الرشید نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا فضل اللہ اپنے ساتھیوں سے مشاورت کرنے کے لیے کچھ دنوں کے لیے کوہستان چلے گئےہیں۔ انہوں نے اس بات کو بار بار دہرایا کہ اگر حکومت نے علاقے میں فوجی کارروائی کرنے کی کوشش کی تو پھر وہ بھی اس کا بھر پور جواب دے سکتے ہیں۔ انہوں نے سوات میں ہونے والے بم دھماکے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سوات میں فوجی اور نیم فوجی دستوں کے ڈھائی ہزار جوانوں نے اچانک شہر کے تمام اہم مراکز کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ سکیورٹی فورسز کی اچانک تعیناتی سے علاقے میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ سرحد کے نگران وزیراعلی شمس الملک نے کہا تھا کہ سوات میں قانون کی عملداری قائم کرنے کے لیے فوجی آپریشن سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا تاہم انہوں نے کہا تھا کہ تاحال فوجی کارروائی زیر غور نہیں۔
سوات میں لال مسجد آپریشن کے بعد سے امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب رہی ہے جبکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملے ایک معمول بن چکا ہے۔