Thursday, 25 October, 2007, 11:25 GMT 16:25 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی شیرپاؤ اور پیٹریاٹ گروپس کے انضمام اور انہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرنے کے اقدام کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بے نظیر بھٹو کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تین سال قبل شیرپاؤ اور پیٹریاٹ گروپس کے انضمام کی اجازت دینے اور ان دونوں دھڑوں کو پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے رجسٹر کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل بنچ نے جمعرات کو اس درخواست کی سماعت کی۔
فاروق نائیک نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002ء اور الیکشن کمیشن آرڈر 2002ء کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو یہ اختیار ہی نہیں تھا کہ وہ دونوں گروپوں کے انضمام کی اجازت دے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی انیس سو اڑسٹھ میں ذوالفقار علی بھٹو نے بنائی تھی، یہ جماعت تب سے ان کے اور ان کی بیٹی بینظیر بھٹو کے ساتھ منسلک ہے، پاکستان پیپلز پارٹی انیس سو اکہتر سے انتخاب لڑ رہی ہے اور ہمیشہ اسے انتخابی نشان تلوار یا تیر دیا جاتا رہا ہے۔
![]() | |
| شیرپاؤ گروپ نےاپنے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا تھا: وکیل |
ڈپٹی اٹارٹی جنرل رضوان احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شیرپاؤ اور پیٹریاٹ پہلے ہیں الگ ہوچکے ہیں ۔
عدالت نے فاروق ایچ نائیک کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے ہوئے اس انضمام کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیدیا۔
فاروق نائیک کا کہنا ہے کہ شیرپاؤ گروپ نے تو اپنے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا تھا تاہم پی پی پی پیٹریاٹ نے پی پی پی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا تھا اور پھر انہوں نے پارٹی سے منحرف ہوکر پیٹریاٹ گروپ بنایا اس زمانے میں صدر جنرل پرویز مشرف نے آئین کو تو بحال کردیا تھا لیکن آرٹیکل 63 اے جس کے تحت سیاسی وفاداری بدلنے کی صورت میں رکن اسمبلی کو نااہل قرار دیا جاتا ہے اسے معطل رکھا۔
درخواست گزار کے مطابق ’پی پی پی نے الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کے لیے 2003ء میں درخواست داخل کی تھی لیکن ہمیں رجسٹر نہیں کیا گیا اور نہ ہی پی پی پی کے نام سے دونوں دھڑوں کو رجسٹر کرنے سے پہلے ہمیں کوئی نوٹس دیا گیا۔‘
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے تیرہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے مارچ دو ہزار سات میں اپنی جماعت تحلیل کرتے ہوئے حکمران مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا تھا مگر آفتاب شیرپاؤ نے اپنی جماعت اس میں شامل نہیں کی تھی ۔