Wednesday, 24 October, 2007, 16:25 GMT 21:25 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ سارک ممالک کے وزرائے داخلہ کے ایک ایسے اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی چلے گئے ہیں جہاں رکن ممالک کے درمیان ملزموں کی حوالگی کے معاہدے پر غور کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے دہلی روانگی سے پہلے لاہور کے ہوائی اڈے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سارک ممالک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس میں ایک دوسرے کو مطلوب افراد کی حوالگی کے معاہدے پر بھی غور کیا جائے گا لیکن وہ اپنے ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر بات کریں گے۔
نئی دہلی میں ہونے والی سارک وزرائے داخلہ کانفرنس میں اس بار ایک نیا ممبر ملک افغانستان بھی شریک ہورہا ہے۔ سارک کے ممبر ممالک کے سیکرٹری داخلہ اور پولیس حکام کے اجلاسوں کے پہلے ہی کئی دور ہو چکے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان رکن ممالک کے درمیان مطلوب ملزموں کے خلاف قانونی کارروائی کے عمل کو باقاعدہ تشکیل دینے کے معاملے پر پیش رفت چاہتا ہے لیکن پاکستان اور بنگلہ دیش کو اس پر تحفظات ہیں۔
انہوں نے کہا اجلاس کے ایجنڈے پر قیدیوں کی رہائی ،معلومات کا تبادلہ اور دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے اقدامات پر غور شامل ہے۔
انہوں نے کہا دہشت گردی ایک اہم معاملہ ہے اور تمام رکن ممالک چاہتے ہیں کہ اس ضمن میں وہ معلومات کے تبادلے سے فائدہ اٹھائیں۔
پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کے داخلی حالات پر ہونے والے مختلف سوالوں کے جواب دیئے۔انہوں نے کہا کہ کراچی سانحہ کے بارے میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی اسے مزید آگے بڑھانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب پیش رفت کی بات کی جاتی ہے لوگوں کی خواہش ملزموں کے پکڑے جانے کے حوالے سے ہوتی ہے لیکن اصل ملزم تو خود کش بمبار تھا جو مرگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب معاملہ اس کے رابطوں کا ہے وہ کہاں تھےاس کی منصوبہ بندی کہاں ہوئی تھی اور ان کے خیال میں پیش رفت ہوئی ہے ابھی اسے مزید آگے بڑھانا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے علم میں ایسے کوئی چار نام نہیں ہے جن کے بارے میں بینظیر بھٹو نے بات کی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے تھانے میں بھی پیپلز پارٹی نے جو درخواست دی ہے اس میں کوئی نام سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک قومی سانحہ ہے جس پر پوری قوم افسردہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اسے کوئی سیاسی رنگ اور خاص سیاسی زاویہ نہ دیا جائے اور میرٹ پر مثبت انداز میں تفتیش کی جائے۔
وزیر داخلہ نے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایک دو ماہ میں الیکشن ہونے والے ہیں اور نومبر میں انتخابی مہم شروع ہوجائےگی۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی میں ملوث لوگ چاہیں گے کہ سیاسی سرگرمیاں شروع ہوں تو وہ زیادہ سے زیادہ ایسے واقعات کرسکیں اور لوگوں کو دہشت زدہ کریں اور یہ ملک اور جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہے اسی لیے پابندی کی یہ تجویز دی گئی ہے کہ سیاسی جماعتیں اس بارے میں حکومتی سطح پر بات چیت کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایسا صرف اسی صورت میں ہوگا جب سیاسی جماعتیں خود چاہیں گی۔ انہوں نے کہا جلسوں کی سکیورٹی کرنا آسان ہے اور آنے والوں کی آسانی سے تلاشی لی جاسکتی ہے اور مناسب پوزیشینوں پر اہلکاروں کو بٹھایا جاسکتا ہے۔
آفتاب شیر پاؤ نے کہا کہ یہ محض ایک تجویز ہے اور اگر سیاسی جماعتوں کو جلوسوں پر پابندی منظور نہیں تو ان کی مرضی ہے پھر وہ ہمیں ذمہ دار نہ ٹہرائیں۔”