Monday, 22 October, 2007, 13:00 GMT 18:00 PST
احمدرضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بینظیر بھٹو نے چوہدری شجاعت حسین کے اس بیان پر کہ بم دھماکے خود پیپلز پارٹی نے کرائے ہیں سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اسے پاگل پن کا مظہر قرار دیا ہے۔
’جب اس قسم کے احمقانہ بیان دیے جاتے ہیں تو پھر شک تو ہمیں کرنا چاہیے۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بے نظیر بھٹو نےکہا کہ ’میں نے ایف آئی آر درج کرائی ہے اور میں چاہتی ہوں کہ واقعے کی تحقیقات ہوں جس میں غیرملکی ماہرین تعاون کریں اور اس مقصد کے لئے حکومت پاکستان غیرملکی ماہرین کو بلائے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ ایک سو تیس سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ہیں پانچ سو لوگ زخمی ہوئے ہیں، ہمیں ان کے کارکنوں کے قاتلوں کو ڈھونڈنا ہے مگر چوہدری شجاعت حسین اپنی پارٹی کے کارکنوں کو سہارا دینے کے لیے کہہ رہے ہیں کہ یہ تو پیپلز پارٹی نے کیا ہے، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ تحقیقات میں غیرملکی معاونت بہت ضروری ہے۔‘
![]() | |
| چوہدری شجاعت نے مذکورہ بیان ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں دیا |
سابق وزیر اعظم نے شدت پسند گروپوں کو جنگ کی بجائے امن کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا۔’دہشتگرد چاہتے ہیں کہ عوام کو حقوق نہ ملیں، میرے پاس تو کوئی ہتھیار نہیں، میرے پاس تو زبان ہے اور نظریہ ہے، دہشتگردوں کو ہتھیار پھینکنے چاہییں اور اگر کوئی اختلافات ہیں تو پرامن طور پر مذاکرات کرنے چاہییں اور عوام کو فیصلہ کرنے دینا چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کا راستہ پرامن سیاسی راستہ ہے اور ان کی کوشش ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ملک میں جمہوریت بحال ہو۔
بینظیر بھٹو نے کہا کہ بانی پاکستان کے مزار پر اپنی حاضری کے دوران انہوں نے عہد کیا ہے کہ ایسا پاکستان قائم کریں گے جو وفاقی، جمہوری اور عوامی ہوگا۔ ’قائد اعظم عوام کی طاقت پر یقین رکھتے تھے اور قائد عوام نے یہ اصول رکھا تھا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، عوام کو اس ملک کا مالک ہونا چاہیے لیکن افسوس کہ عوام دشمن طبقے نے عوام کو سیاسی و معاشی حقوق سے محروم کررکھا ہے۔‘