http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 19 October, 2007, 14:59 GMT 19:59 PST

انتخاب امیر
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پشاور

سرحد میں مزید حفاظتی اقدامات

پشاور سمیت صوبہ سرحد کے بیشتر شہروں میں جمعہ کے روز حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

صوبہ سرحد کے سیکریٹری داخلہ بادشاہ گل وزیر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کراچی میں ہونے والے بم دھماکوں کے تناظر میں صوبائی محکمہ پولیس نے ضروری اقدامات کیے ہیں جن میں، اُن کے بقول، مختلف مقامات پر پولیس نفری اور پہلے سے موجود چیک پوسٹوں پر چیکنگ میں اضافہ شامل ہیں۔

صوبہ سرحد میں کئی شہروں میں سیکیورٹی ’ہائی الرٹ‘ یعنی ’انتہائی درجہ‘ پر تھی جس میں کراچی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد مزید اضافہ کردیا گیا ہے۔ تاہم پولیس نفری اور چیکنگ میں اضافے کے باوجود جمعہ کے روز صوبہ سرحد کے دو اہم شہروں میں دھماکے ہوئے جن میں سے ایک متعلقہ علاقے کی پولیس کے مطابق دہشت گردی کی واردات ہے ۔

پہلا دھماکہ صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں سیشن کورٹ کی عمارت کے باہر سڑک پر ایک سائیکل میں نصب بم کے پھٹنے سے ہوا جس سے ایک ایف ۔ سی ۔ اہلکار زخمی ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ پشاور کے علاقے مومن ٹاؤن میں ہوا جہاں، پولیس کے مطابق، ایک شخص گاڑی میں لے جائے جانے والے بارود میں دھماکے سے شدید زخمی ہوا۔

جمعہ کے روز صوبہ سرحد کے نگران وزیرِ اعلی ٰ شمس الملک نے پشاور میں سوات میں امن و امان کی روز بروز بگڑتی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سوات کے سیاسی زعماء اور علاقے کے عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ سے ملاقات کی۔

نگران وزیرِ اعلیٰٰ نے جرگہ کے ارکان کی جانب سے امن و امان کو بہتر کرنے کے لیے دی جانے والی تجاویز کو سنُا اور اُن سے کہا کہ اُن کے مشوروں پر ان کی مدد سے عملدرآمد کیا جائے گا۔

جرگہ میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صوبۂ سرحد کے صدر امیر مقام بھی شامل تھے جنھوں نے چند روز پہلے پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ اگر سوات اور صوبۂ سرحد کے جنوبی اضلاع میں امن و عامہ کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو ان علاقوں میں آئندہ انتخابات التواء کا شکار ہو سکتے ہیں۔