Friday, 19 October, 2007, 02:33 GMT 07:33 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ملک کے خفیہ اداروں نے جن خدشات کا اظہار کیا وہ سچ ثابت ہوئے ہیں۔
بارہ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد سے قبل سندھ حکومت کے محکمہ داخلہ نے تخریبکاری اور تصادم کے خدشات کا اظہار کیا تھا اور بارہ مئی کو شاہراہ فیصل پر ہی سب سے زیادہ ہنگامہ آرائی ہوئی جس نے چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے اور شہر میں کئی روز تک کشیدگی کا ماحول رہا۔
حکومت نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو آگاہ کیا تھا کہ بینظیر بھٹو کی آمد کے موقع پر تخریبکاری کے خدشات ہیں۔ حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹوں کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کو بتایا تھا کہ اٹھارہ اکتوبر کو بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر خودکش اور راکٹ سے حملے کی اطلاعات ہیں۔
حکومت کے مطابق بینظیر کو ہائی رینج رائفل سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے، جلوس کے روٹ میں کار بم دھماکہ ہوسکتا ہے اور ائرپورٹ پر دھماکے کا خدشہ ہے۔
ان خدشات کے پیش نظر بینظیر بھٹو کے لیے خصوصی سکیورٹی پلان تشکیل دیا گیا تھا۔ ان کی حفاظت کی ذمہ داری پیپلز پارٹی نے بھی اٹھا رکھی تھی اور ان کے لیے خصوصی طور پر بلٹ پروف کنٹینر بنایا گیا تھا مگر عوام کا سمندر دیکھنے کے بعد بینظیر اس کنٹینر کے بلٹ پروف چیمبر کے بجائے دیگر رہنماؤں کے ساتھ عرشے پر موجود تھیں۔
پولیس حکام نے بتایا کہ ائرپورٹ سے لیکر قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار تک تمام بلند عمارتوں پر پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات ہوں گے۔
سندھ ہائی کورٹ نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت جاری کی تھی ہے کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو فول پروف حفاظتی انتظام فراہم کیے جائیں۔
اس سے قبل بے نظیر بھٹو نے آمد سے پندرہ روز قبل اپنے انٹرویوز میں کہا تھا کہ القاعدہ ان پر حملہ کرواسکتی ہے کیونکہ القاعدہ عورت کی حکمرانی اور جمہوریت کی مخالف ہے۔ اس بار بھی خدشات پورے ہوئے اور انتظامات ایک مرتبہ پھر بھی اہورے ہی ثابت ہوئے۔