عباس نقوی
کراچی
شاہراہ فیصل کا وہ حصہ جہاں کراچی کی تاریخ کا بدترین بم دھماکہ ہوا تھا ایک روز بعد کچھ الگ ہی منظر پیش کر رہا تھا۔
جمعرات کی شب کارساز فلائی اوور سے چند قدم کے فاصلے پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے کے مقام پر جمعہ کو بظاہر تو کوئی خاص شے نظر نہیں آرہی تھی، ٹریفک رواں دواں تھی، مگر بغور دیکھنے پر یہاں سڑک اور فُٹ پاتھ پر جابجا بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے خوں کے نشانات تھے تو کہیں کہیں اُن کی باقیات نظر آتی ہیں۔
پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد اس مقام سے تباہ شدہ گاڑیوں کا ملبہ ہٹادیا ہے تاہم اب یہاں رینجرز کے اہلکار تعینات ہیں جو دھماکے کے مقام کو دیکھنے کے لئے رُکنے والے راہگیروں اور گاڑیوں کو آگے بڑھتے رہنے کی ہدایت کرتے ہیں۔
![]() | |
| دھماکے کی جگہ سے خون کی بو آ رہی ہے |
دھماکے کے مُقام پر اب بھی خون سے رنگے پیپلزپارٹی کے جھنڈے اور بے نظیر بھٹو کے پوسٹر پڑے ہیں، قریب ہی درخت کی ٹہنی میں پھنسی کسی شخص کی ٹوپی نظر آئی تو کہیں کسی کے کپڑوں کے ٹکڑے جو دھماکے کی تباہ کاریوں کی یاد دلارہے ہیں۔
دھماکے کی شدت اس قدر تھی کے ہلاک ہونے والوں کی لاشیں کئی فٹ دور تک جاگریں اس بم دھماکے کی شدت کا اندازہ شاہراہ فیصل کی گریں بیلٹ کے درختوں کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے جو بم کے اثرات سے مُرجھاچکے ہیں۔
شاہراہِ فیصل کی دو سو فٹ چوڑی سڑکوں کے درمیاں بنی گریں بیلٹ پر بم دھماکے کے بعد درجنوں لاشیں اور زخمی پڑے تھے جن کے خون سے مٹی گیلی ہوگئی تھی اُس وقت یہاں بارود کی بو بسی تھی مگر آج اس مخصوص حصے سے خون کی بو آرہی ہے جو یہاں سے گزرنے والے محسوس کر سکتے ہیں۔