Saturday, 20 October, 2007, 00:46 GMT 05:46 PST
علی احمد خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
محترمہ بینظیر آٹھ سال کی خودساختہ جلاوطنی کے بعد 18 اکتوبر کو وطن واپس آگئیں۔اگرچہ محترمہ کے خیرمقدم کے لئے ایئرپورٹ سے قائد اعظم کے مزار تک بڑا اہتمام کیا گیا تھا، ملک کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ آئے تھے، خود کراچی میں لوگوں کا ایک اژدہام تھا،حکومت نے انکی حفاظت کا بہت ہی مناسب بلکہ’ فول پروف، انتظام کیا تھا۔
لیکن انسانوں اس بیکراں سمندر میں کچھ ایسے عناصر بھی تھے جو ان کی آمد سے خوش نہیں تھے۔ انہوں نے ایک بہت ہی اوچھی حرکت کی اور کوئی 140 افراد کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کردیا۔پانچ سو سے زیادہ زخمی بھی ہوئے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جسے معاف کرنا بھی میرے نزدیک جرم ہے۔
اس مذموم حرکت کے باوجود محترمہ کی آمد میرے نزدیک باعث مسرت ہے، اس لئے کہ یہ واحد موقع ہے جب حکومت نے’بغیر کسی ڈیل کہ، جیسے کہ محترمہ کہتی ہیں اپنے فرائض انتہائی خلوص اور دیانتداری سے ادا کئے اور انہیں وہ تمام سہولتیں اور مراعت فرام کیں جو ہر پاکستانی کا حق ہے اور جو ہر سیاسی رہنما کو بلا امتیاز ملنی چاہئے۔
مجھے امید ہے کہ اب اگر میاں نواز شریف دوبارہ وطن واپس آئیں جس کے قوی امکانات ہیں تو حکومت انہیں بھی بغیر کسی ڈیل کے وہ ساری سہولتیں اور مراعت فراہم کریگی جو محترمہ اور ان کی جماعت کو فراہم کی گئی ہیں اور ان کی حفاظت کا بھی ویسا ہی فول پروف انتظام کیا جائیگا جیسا کہ محترمہ کے لئے کیا گیا تھا تاکہ خدا نہ خواستہ اگر ان پر بھی ایسا ہی خود کش حملہ ہو تو وہ بھی بحفاظت اپنی رہائیش گاہ پر پہنچائے جاسکیں۔
![]() | |
محترمہ نے کل بلاول ہاؤز میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک خط کا بھی انکشاف کیا جس میں بقول ان کے انہوں نے صدر صاحب کے نام لکھا ہے۔ اس میں انہوں نےتین افراد کے نام لکھے ہیں جو کسے حملے کے نتیجے ان کی ہلاکت کے ذمہ دار قرار دیئے جائیں۔ محترمہ نے یہ نام صدر پرویز مشرف کوتو بتادئیے پاکستان کے عوام کو نہیں بتائے۔ میراخیال ہے ایسی باتیں عوام کو جاننےکا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا صدر پرویز مشرف کو۔
ایک بات بہت واضح ہے کہ محترمہ اب تک ذوالفقار علی بھٹو کی شہرت اور مقبولیت کی کشتی میں سوار نظر آتی ہیں اور اگر ان کا کوئی وصف ہے تو صرف یہ کہ وہ مرحوم کی بیٹی ہیں وہ اب تک اپنی کوئی سیاسی ساکھ بنانے میں ناکام رہی ہیں ’انہیں آفتاب تازہ پیدا کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔’ ڈوبے ہوئے ستاروں کا ماتم کب تلک۔‘
![]() | |
چودھری حضرات کی جانب سے اسطرح کی باتوں سے ان افواہوں کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ ممکن ہے اس آرڈیننس کی منظوری وفاقی کابینہ نے تو اتفاق رائے سے دی ہو لیکن حکمراں جماعت کی متفقہ حمایت اس کو حاصل نہیں ہے۔
بینظیر بھی بار بار کہ چکی ہیں کہ پرویز مشرف تو مصالحت کے حق میں ہیں لیکن چودھری حضرات کو مجھ سے خطرہ ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ کہ حکومت اور پیپلز پارٹی میں یہ سودے بازی ہوئی ہے یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اگر ہوئی ہے تو اس میں ابھی سے دراڑیں پڑنی شروع ہوگئی ہیں اور کوئی ٹھیک نہیں کہ تکمیل کے مراحل طے کرنے سے پہلے پہلے یہ دراڑیں شگاف کی شکل اختیار کرلیں۔
جناب صدر اور موجودہ حالات:
--------------------------------------------------
محترمہ بینظیر کی آمد سے جہاں سیاسی ماحول میں مثبت تبدیلی کے امکانات کچھ روشن ہوئے ہیں وہاں صدر مشرف کی پوزیشن خاصی کمزور ہوئی ہے۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ صدر صاحب نےچودھری حضرات کی مرضی کے خلاف محترمہ سے سلسلہ جنبانی کرکے ان کو خاصہ ناراض کردیا ہے۔ ایسی صورت میں انہیں اپنی بقاء کے لیئے محترمہ اور ان کی پارٹی پر سوفیصد انحصار کرنا پڑےگا جبکہ محترمہ اپنی سیاسی ساکھ قائم کرنے کے لئے جلدی ہی صدر صاحب سے ایک فاصلہ رکھنے کی کوششیں شروع کردینگی۔ جیسے کہ انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ وہ’ کسی ڈیل کے تحت نہیں آئی ہیں۔‘
محترمہ کو امریکہ سے بھی اپنی قربت سے ذرا گریز کرنا ہوگا اس لئے کہ انہوں نے بظاہر امریکہ کو خوش کرنے کے لئے ڈاکٹر قدیر اور اسامہ سے متعلق جو بیانات دئے ہیں ان سے عوام کو کچھ بہت زیادہ خوشی نہیں ہوئی ہے۔
![]() | |
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سعودی عرب انہیں اس بار آنے کی اجازت دے گا۔ بعض سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب انہیں ہمیشہ کے لئےروک سکتا اور نہ وہ پرویز مشرف کی طرفداری کا الزام بہت دنوں تک اپنے سر لے سکتا ہے۔
ادھر مسلم لیگ’ق‘ میں کچھ لوگ ہیں جو میاں صاحب کی وطن واپسی کے حق میں ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ چودھریوں سمیت ’ق‘ کے بیشتر رہنما پیپلز پارٹی کے بجائے ’ن‘ سے مفاہمت کو ترجیح دینگے۔ چودھری صاحب اس عرصے میں بار بار سعودی عرب بھی جاتے رہے ہیں جو خالی از علت نہیں ہوسکتا۔ غرض کے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاست میں غیر یقینی کا عنصر بڑھتا جارہا ہے اور اس سے وابستہ ہر فریق کے آپشنز کم ہوتے جا رہے ہیں یا یوں کہئے کہ راہیں مسدود ہوتی جارہی ہیں۔
اس صورتحال سے پاکستان کے عوام اگرچہ لاتعلق نظر آتے ہیں لیکن پریشان ہیں اور ان کی دلی خواہش یقینی یہی ہوگی کہ تمام سیاسی رہنما اپنے اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکرقومی مفاد میں داخلی اور خارجی امور سے متعلق ایک مشترکہ حکمت عملی وضح کریں اور اس پر دیانتداری سے عمل کریں۔