http://bbc.com.im/urdu/

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

طالبان کمانڈر کی بینظیر کو وارننگ

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے کمانڈر حاجی عمر نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو امریکہ کے کہنے پر پاکستان آ رہی ہے تاکہ وہ ’مجاہدین‘ کے خلاف کارروائیاں کرسکیں لیکن اگر انہوں نے ایسے کیا تو صدر جنرل پرویز مشرف کی طرح ان پر بھی حملے کیے جا سکتے ہیں۔

بینظیر بھٹو کی واپسی: خصوصی ضمیمہ

بدھ کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے حاجی عمر نے بتایا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ بینظیر بھٹو خود اپنی مرضی سے پاکستان نہیں آ رہیں بلکہ امریکہ کے کہنے پر آ رہیں ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں بھی کافی وقت گزارہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں اگر جنرل مشرف کی حکومت ہو یا بعد میں بینظیر بھٹو کی حکومت بنتی ہے، ہماری جنگ تو دونوں کے خلاف جاری رہے گی۔‘

ایک سوال کے جواب میں حاجی عمر نے بتایا کہ بینظیر بھٹو اسامہ بن لادن کو گرفتار کرانے میں امریکہ کی کیا مدد کریگی کیونکہ خود امریکہ اور پاکستان گزشتہ چھ سال سے اسامہ بن لادن کا پتہ نہیں لگا سکے ہیں اور جس سے اب یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ اسامہ پاکستان میں موجود نہیں ہے۔

طالبان کمانڈر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ان کی جنگ اب صرف وزیرستان تک محدود نہیں بلکہ اب تو یہ جنگ دیگر علاقوں جیسے باجوڑ ، سوات اور راولپنڈی تک بھی پھیل گئی ہے کیونکہ وہاں پر بھی دھماکے ہو رہے ہیں اور یہ کاروائیاں جاری رہیں گی۔

واضح رہے کہ بینظیر بھٹو کل پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی پہنچ رہی ہیں۔ حکومت نے ان کی آمد کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے ہوئے ہیں۔

گزشتہ روز بے نظیر بھٹو نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ انہیں پاکستان میں طالبان سے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے جہادی عناصر سے خطرہ ہے جو ان کے مطابق ان کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔