http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 17 October, 2007, 09:16 GMT 14:16 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

کراچی ایئرپورٹ کے راستے بند

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی کراچی آمد سے قبل ہی جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی طرف جانے والے راستوں کو پولیس نے کنٹینر کھڑے کر کے بند کر دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حفاظتی انتظام کے تحت کیے گئے ہیں تاہم ان اقدامات سے مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو دشواری کا سامنا ہے۔

اس علاقے کے رہائشی محمد رشید کا کہنا تھا کہ صبح کو جب وہ گھر سے نکلے تھے تو راستے میں کنٹینر موجود نہیں تھے اور اب لوگوں کو کوئی اطلاع دیے بغیر راستے بند کر دیےگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’جو بچے سکول گئے ہیں وہ اس صورتحال میں کس طرح واپس جائیں گے کیونکہ گاڑیاں تو یہاں روک لی گئی ہیں‘۔

بینظیر بھٹو جمعرات کو جناح ایئرپورٹ پہنچے گی جہاں سے انہیں ٹرمینل ون پہنچایا جائےگا اور وہ جلوس کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے مزار کی جانب روانہ ہوں گی۔

کارگو کی وصولی کے لیے استعمال ہونے والے ٹرمینل ون تک عوام کی رسائی ابھی سے ہی ناممکن بنا دی گئی ہے اور حکام کی جانب سے لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ جمعہ کو سامان وصول کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایئرپورٹ سے لیکر قائداعظم کے مزار تک شاہراہ فیصل اور شاہراہ قائدین پر بینظیر کی بڑی بڑی تصاویر، بینر اور پوسٹر آویزاں کیے گئے ہیں، جن پر پنجاب اور سندھ کے رہنماؤں کے نام تحریر ہیں۔

شاہراہ فیصل پر بدھ سے ہی استقبالیہ کیمپ لگائے گئے ہیں جن میں تنظیمی ترانے بجائے جا رہے ہیں۔ ان کیمپوں میں پنجاب سے آئے ہوئے کارکنوں سمیت ہندو اور عیسائی اقلیتی کمیونٹی کے بھی کیمپ شامل ہیں۔

بارہ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد کے وقت ہنگامہ آرائی کا مرکز رہنے والی شاہراہ فیصل اس وقت سیاسی سرگرمی کا مرکز بنی ہوئی ہے جہاں قومی شاہراہ سے آنے والے قافلے بھی گزر رہے ہیں اور مزید کیمپ لگائے جا رہے ہیں۔

بینظیر جمعرات کی شام کو قائداعظم محمد علی جناح کی مزار کے باہر شاہراہ قائدین پر جلسے سے خطاب کریں گی جس کے لیے بلٹ پروف کنٹینر تیار کر لیا گیا ہے جس سے سٹیج کا کام لیا جائےگا۔