Wednesday, 17 October, 2007, 15:00 GMT 20:00 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
صوبہ سرحد کے ضلع بنوں میں حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان نے بنوں سے اغواء کیے جانے والے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے بائیس اہلکاروں میں سے مزید چھ کو غیرمشروط طور پر آزاد کردیا ہے۔ اس طرح رہا ہونے والے اہلکاروں کی تعداد دس ہوگئی ہے۔
بنوں سے ملنے والی اطلاعات میں ایف سی ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک ماہ قبل اورچہ چیک پوسٹ بنوں سے اغواء کیے جانے والے ایف سی کے مغوی اہلکاروں میں سے مزید پانچ کو منگل کی رات جبکہ ایک کو آج صبح طالبان کی جانب سے غیر مشروط طور پر رہا کیا گیا۔
ایف سی کے اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مغویوں کی رہائی میں علاقے کے علماء کرام اور قبائلی مشران نے اہم کردار ادا کیا جس کے بعد اہلکاروں کو غیرمشروط طور پر آزاد کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بائیس مغوی اہلکاروں میں سے اب تک دس کو رہا کیا جاچکا ہے، دو کو گلا کاٹ کر ہلاک کیا گیا تھا جبکہ دس اہلکار بدستور طالبان کے قید میں ہیں۔ یاد رہے کہ ان اہلکاروں کے اغواء کے دوسرے دن دو مغویوں کی لاشیں قریبی علاقے سے ملی تھیں جنہیں گلہ کاٹ کر قتل کیا گیا تھا۔
ادھر شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے ترجمان احمد اللہ احمدی نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ اس وقت تک جنگ بندی پر بات نہیں ہوسکتی جب تک علاقے میں قائم فوجی چیک پوسٹوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
طالبان کے ترجمان نے یہ بات ہمارے ساتھی دلاور خان کو بدھ کو کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کرکے بتائی۔ احمد اللہ احمدی کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے بنائے گئے ایک قبائلی امن جرگہ نے بدھ کو طالبان کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور علاقے میں امن کے قیام اور جنگ بندی کے حوالے سے بات چیت کی۔ جرگہ اورکزئی ایجنسی اور ہنگو کے علماء کرام اور مشران پر مشتمل ہے۔
ترجمان نے کہا کہ حکومت اور قبائلی مشران کی جانب سے علاقے میں جو امن کمیٹیاں بنائی جارہی ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جس کسی نے ان کمیٹیوں میں شرکت کی وہ ان کا نشانہ بنیں گے اور اگر علاقے میں امن معاہدہ بھی ہوجاتا ہے تب بھی امن کمیٹیوں کے ممبران کو نہیں چھوڑا جائے گا۔