Monday, 15 October, 2007, 18:49 GMT 23:49 PST
انتخاب امیر
بی بی سی، اردو ڈاٹ کام، پشاور
سرکاری ذرائع نے شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی بازار سے کرفیو اٹھانے اور فوج ہٹانے کی تصدیق کی ہے۔ جب کہ صوبہ سرحد کے علاقے بنوں سے سے شمالی وزیرستان میں میر علت سے میران شاہ جانے والی سڑک بھی پیر کی شام سے عام آمد و رفت کے لیے کھول دی گئی ہے۔
تحصیل میر علی بازار منگل سے کھل جائےگا۔ شمالی وزیرستان امن کی بحالی کے لیے قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ حکومت اور مقامی طالبان کے مابین مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔
جرگے کے ایک رکن حاجی فیض اللہ اورکزئی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی جانب سے چار چیک پوسٹیں ہٹانے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ جن میں سے دو میعلی میں اور دو میران شاہ سے ہٹائی جائیں گی۔
حاجی فیض اللہ کے مطابق میران شاہ میں یہ چیک پوسٹیں گورا قبرستان اور بازار کے قریب واقع ہیں جب کہ میر علی میں ہسپتال اور بازار کے قریب ہیں۔ تاہم کرفیو اٹھانے اور فوج اٹھانے کی تصدیق کرنے والے سرکاری ذرائع نے نے چیک پوسٹیں ہٹائے جانے کے بارے میں لا علمی کا اظہار کیا ہے۔
شمالی وزیرستان سے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ مقامی عمائدین نے اپنے اپنے علاقے میں لوگوں کو غیر ملکی جنگجوؤں کے انخلاء پر آمادہ کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
اس سے پہلے جرگی کو کوششوں کے نتیجے میں عید الفطر پر مقامی طالبان نے فائر بندی رکھنے کا اعلان رکھتے ہوئے فرنٹئر کانسٹیبلری کے چھ مغوی اہلکاروں کو رہا کر دیا تھا۔