Monday, 15 October, 2007, 16:40 GMT 21:40 PST
پاکستان پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات بعض ذرائع ابلاغ کے ذریعے دیے جانے والے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ ان کی جماعت بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کے پروگرام پر نظر ثانی کر رہی ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات شیری رحمان نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو آٹھ سال بعد پاکستان واپس لوٹ رہی ہیں اور پارٹی کی طرف سے ان کے تاریخی استقبال کے لیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔
بینظیر بھٹو کی جماعت نے اٹھارہ اکتوبر کے دن ان کی کراچی آمد کا اعلان کر رکھا ہے۔ پیپلز پارٹی کا الزام ہے کہ بینظیر بھٹو کی واپسی پر ابہام ان کے استقبال کے پروگرام کو خراب کرنے کے لیے پیداکیا جا رہا ہے۔
بینظیر بھٹو کی واپسی پر سوالات ایسے موقع پر اٹھائے جا رہے ہیں جب اندرون ملک کے مختلف شہروں سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے قافلے بڑی تعداد میں کراچی پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔
پچھلے ہی ہفتے صدر جنرل پروز مشرف نے ایک انٹرویو میں پیپلز پارٹی کو مشورہ دیا تھا کہ بینظیر بھٹو کو چاہیے کہ وہ اپنی وطن واپسی سپریم کورٹ میں ان کی صدارت سے متعلق درخواستوں کے فیصلے تک مؤخر کردیں۔
پیر کو بی بی سی کو انٹرویو میں وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے حکومت کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’وہ کوئی سیاسی مشورہ تو تھا نہیں۔ وہ تو بس مشورہ ایک تھا۔ اگر وہ پھر بھی آنا چاہیں تو وہ گئی بھی اپنی مرضی سے تھیں اور اپنی مرضی سے آ بھی سکتی ہیں‘۔
اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں سکیورٹی کے انتظامات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر محمد علی درانی نے کہا کہ جو تحفظ ہر پاکستانی شہری کو ملنا چاہیے وہ بینظیر بھٹو کو بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو سکیورٹی چیلنج کا بہرحال سامنا رہا ہے جس سے وہ نمٹتی رہی ہے اور اب بھی حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ سکیورٹی کے مناسب انتظامات کیے جائیں۔