Sunday, 14 October, 2007, 16:19 GMT 21:19 PST
انتخاب امیر
بی بی سی، اردو ڈاٹ کام، پشاور
شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان نے عید الفطر کے احترام میں فائر بندی کا اعلان کیا اور علاوہ صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو کے علاقے سپن ٹل سے اغواء کیے گئے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے چھ اہلکاروں کو سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب رہا کیا ہے۔
ایف سی کے ان چھ اہلکاروں کو تقریباٌ ایک ماہ پہلے اُس وقت اغواء کیا گیا تھا جب وہ سپن ٹل چیک پوسٹ پر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
ایف سی کے اعلیٰ سرکاری افسر اور قبائلی جرگہ کے ایک رُکن کے مطابق مغوی اہلکاروں کی رہائی غیر مشروط طور پر اورکزئی قبائل اور صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو کے قبائلی عمائدین اور علماء کے اثر رسوخ کی وجہ سے ممکن ہوئی۔
قبائلی جرگہ کے رُکن حاجی فیض اللہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ چھ کے چھ مغوی اہلکاروں کا تعلق اورکزئی قبیلے سے تھا لہٰذا قبائلی عمائدین نے علاقے کے علماء کے ہمراہ طالبان سے بات چیت کی اور بیس روز سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد بالآخر سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات مغوی اہلکاروں کو سپن ٹل کے علاقے میں رہا کر دیا گیا۔
ڈسٹرکٹ آفیسر ایف سی ناصر منیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مغوی اہلکاروں کی رہائی کے لیے فی اہلکار دس دس لاکھ روپے تاوان اور وزیرستان سے فوج کی واپسی کی شرائط لگائی گئی تھیں لیکن قبائلی جرگے نے اپنے اثر و رسوخ کی بنا پر مغویوں کی رہائی کو شرائط پر عمل کے بغیر ممکن بنا لیا۔
مغوی اہلکاروں نے رہائی کے بعد اعلیٰ افسران کو بتایا ہے کہ جن افراد نے ان کو اغواء کیا ان میں سے ایک شخص خود کش بمبار تھا اور اس نے دھماکہ خیز مواد سے بھری مخصوص جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔ اغواء کے بعد ان اہلکاروں کو وزیرستان کے دور افتادہ مقام پر لے جایا گیا جہاں ان پر شروع میں جسمانی تشدد بھی کیا گیا اور انہیں زیرِ زمین سرنگوں میں علیحدہ علیحدہ رکھا گیا۔
زیرِ زمین سرنگوں میں رکھا گیا |
البتہ اس حوالے سے فیض اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ علماء کے اثر رسوخ کے علاوہ اورکزئی قبیلے کے عمائدین کا ان (طالبان) سے تجارتی تعلق بھی کام آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا (جرگہ اراکین کا) حکومت سے مطالبہ ہے کہ میر علی کو جانے والی سڑکوں کو فوری طور پر کھولا جائے۔ کرفیو ختم کیا جائے۔ بازاروں کو کھولا جائے اور نقل مکانی پر مجبور افراد کی اپنے علاقوں میں واپسی کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔