Friday, 12 October, 2007, 10:41 GMT 15:41 PST
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کو ایک ذاتی پیغام بھیجا ہے جس میں انہوں نے بینظیر بھٹو سے کہا ہے کہ وہ اس وقت اپنی پاکستان آمد میں تاخیر کریں جب تک کے تمام عدالتی معاملات ختم نہیں ہو جاتے۔
تاہم، بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں پاکستان کے صدر نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بینظیر بھٹو کو پاکستان آنے سے روکیں گے۔
جمعہ کو نامہ نگار اوون بینٹ جونز کو انٹرویو دیتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے کہا: ’میں نے (بینظیر بھٹو) کو پیغامات بھیجے ہیں، اس لیے میرا خیال ہے کہ انہیں اپنی پاکستان واپسی میں تاخیر کرنی چاہیئے۔ یہاں بہت کچھ ہو رہا ہے، عدالتوں میں مقدمے چل رہے ہیں۔ میرا خیال ہے انہیں ان کے بعد ہی آنا چاہئیے۔‘
تاہم جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ وہ بینظیر بھٹو کو واپس آنے سے روکیں گے نہیں۔ ’ انہیں ملک سے کسی نے بھی نہیں نکالا تھا۔‘
بینظیر بھٹو نے آٹھ سالہ خودساختہ جلاوطنی کے بعد اٹھارہ اکتوبر کو پاکستان جانے کا اعلان کیا ہوا ہے جبکہ پاکستان کی سپریم کورٹ اس سے ایک دن قبل سترہ تاریخ کو جنرل مشرف کے بطورِ صدرِ پاکستان انتخاب کے حوالے سے آئینی درخواستوں کی سماعت کرے گی۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے ساتھ صدر جنرل پرویز مشرف کے انٹرویو کی تفصیلات موصول ہو رہی ہیں۔