Wednesday, 10 October, 2007, 21:29 GMT 02:29 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کو خواتین کی مخصوص نشست پر ایم این اے قرار دینے کے بارے میں درخواست کی سماعت کے لیے سندھ ہائیکورٹ کا پانچ رکنی بنچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
راولپنڈی کی احتساب عدالت نے بےنظیر بھٹو کو ایس جی ایس کوٹینکا، اے آر وائی گولڈ اور اثاثہ جاتی مقدمات میں تین تین سال سزا سنائی تھی، جس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے انہیں سن دو ہزار دو کے عام انتخابات اور مخصوص نشستوں کے الیکشن میں نااہل قرار دیا تھا۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف بے نظیر بھٹو نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی، قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت یہ مقدمات واپس لیے جانے کے بعد بے نظیر بھٹو نے اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی جلد سماعت کی درخواست دائر کی ہے ۔
سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے اس درخواست کے سماعت کے لیے اپنی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا ہے، جس میں جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس مشیر عالم، جسٹس رحمت حسین جعفری اور جسٹس فیصل عرب شامل ہوں گے۔
عدالت انتیس اکتوبر کو اس مقدمے کی سماعت کرےگی، جس کےلیے الیکشن کمشنر اور ریٹرننگ افسر کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ فاروق نائیک نے اپنی اس درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مقدمات واپس لیے جانے کے بعد اب بےنظیر بھٹو کو خواتین کی مخصوص نشست پر کامیاب قرار دیا جائے کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے خواتین کی مخصوص نشست کے لیے جو فہرست فراہم کی تھی اس میں سرفہرست بے نظیر بھٹو کا نام تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ اسمبلیوں کی معیاد پندرہ نومبر ہے لہذا اس مقدمے کی جلد سماعت کر کے بےنظیر کو کامیاب قرار دیا جائے تاکہ وہ موجودہ اسمبلیوں سے حلف لے سکیں۔