Tuesday, 09 October, 2007, 10:17 GMT 15:17 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے ایک سابق سینئر سرکاری افسر روئیداد خان نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن دائر کی ہے۔
یہ درخواست آئین کی دفعہ ایک سو چوراسی کی ذیلی شق 3 کے تحت دائر کی گئی ہے اور اس میں وفاق پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے۔ پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس سنہ دو ہزار سات کو آئین کے منافی قرار دیا جائے۔
پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے، یہ آرڈیننس قانون کا اطلاق مساوی نہیں کرتا اور یہ امتیازی ہے۔
پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ درخواست عوامی اہمیت کی حامل ہے جو بنیادی حقوق کے متاثر ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت مقدمات کو قانون کے مطابق عدالتی طریقہ کار کے مطابق چلانے کی بجائے قانون کے مطابق ختم کیا جا رہا ہے جس کی آئین اجازت نہیں دیتا۔
پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت حکمرانوں اور مخصوص افراد کو فائدہ پہنچے گا اور صدر جنرل پرویز مشرف کے دیگر متعدد غیر قانونی اقدامات کی طرح اس آرڈیننس کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس آرڈیننس سے پوری قوم حیران ہے اور اس سے دنیا میں پاکستان کا تشخص متاثر ہوا ہے۔