Monday, 08 October, 2007, 13:41 GMT 18:41 PST
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان
شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور پاکستانی طالبان کے درمیان سنیچر کی رات سے شروع ہونیوالا جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور فوج کے ایک ترجمان کے مطابق شمالی وزیرستان میں پچاس فوجی لاپتہ ہوگئے ہیں۔
علاقے کے دورے پر گئے ہوئے ایک صحافی کے مطابق جھڑپوں میں کم سے کم باون شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے۔
میر علی جانے والے صحافی احسان اللہ داوڑ نے پیر کو بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا جب میر علی کے ایک سب ڈویژن سے آتے ہوئے ایک قافلے پر حملہ ہوا۔
ان کے بقول جب وہ مقامی جرگے کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچے تو انہوں نے سکیورٹی فورسز کی کم و بیش دس گاڑیاں دیکھیں جو راکٹ لگنے سےمکمل تباہ ہو چکی تھیں۔
مقامی لوگوں نے صحافی کو بتایا کہ جھڑپیں بہت خوفناک تھیں اور ساری رات فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔
![]() | |
| سکیورٹی فورسز کے قافلوں اور ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے |
فائرنگ رکنے پر یہ لاشیں سکیورٹی فورسز کے حوالے کی گئیں۔
صحافی نے بتایا کہ مقامی لوگوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دو دنوں کی لڑائی میں کم سے کم باون شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق زیادہ تر لوگ اپنے گھروں پر بم گرنے سے ہلاک ہوئے۔
دریں اثناء سنیچر سے جاری جھڑپوں میں دونوں طرف سے ایک دوسرے کو جانی نقصان پہنچانے کے متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔ طالبان کے ساتھ لڑائی میں شدت ایسے وقت ہوئی ہے جب لیفٹینٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
معاہدہ ٹوٹ گیا |
تاہم طالبان کے ترجمان احمد اللہ احمدی کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے قافلوں اور ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
حکام کے مطابق تحصیل میرعلی کے مختلف علاقوں باڑوخیل، مسکی، ایسو خیل، خوشحالی اور حیدر خیل میں ساری رات شدید لڑائی جاری رہی جبکہ میرانشاہ میں بھی کئی فوجی چوکیوں پر حملے کیےگئے ہیں۔
حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے میرعلی میرانشاہ اور میرعلی بنوں شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ میرعلی میں بازار بھی گزشتہ روز سے بند پڑے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدہ ٹوٹنے کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں اور دو دن پہلے مقامی طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگر شمالی وزیرستان سے فوجی چوکیوں کو ختم نہ کیا گیا تو سکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آ جائے گی۔