Monday, 08 October, 2007, 10:54 GMT 15:54 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چئرمین کو حکم دیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں الاٹ کیے گئے پانچ سو زرعی فارموں کی جانچ پڑتال کریں اور جو فارم زیر کاشت نہیں ان کی الاٹمنٹ منسوخ کردیں۔
یہ احکامات چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ملک میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سےسپریم کورٹ کی طرف سے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیئے۔
انہوں نے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے صوبوں کے چیف سیکرٹریز کی طرف سے بھیجی جانے والی رپورٹس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں کے پولیس سربراہان کو حکم دیا ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزی کے ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمات درج کریں اور ایک جامع رپورٹ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کریں۔
چیف جسٹس نے صنعتوں کے وفاقی سیکرٹری کو، جو کہ پرائس کنٹرول کمیٹی کے کنٹرولر جنرل بھی ہیں، ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ چند دنوں میں ملک میں آٹے، چینی اور دالوں کی قیمتوں میں کم از کم پچیس فیصد کمی کریں۔
انہوں نے سیکرٹری صنعت کو حکم دیا کہ گندم، آٹا اور دالیں ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف موثر مہم شروع کریں اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے بارے میں لائحہ عمل تیار کریں۔
قرضہ معافی |
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں سکینڈل پر سکینڈل آرہے ہیں لیکن کوئی بھی نہیں پکڑا جا رہا۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی جیب سے لوگوں کو ریلیف دے اور اگر وہ نہیں دے سکتی تو پھر بااثر افراد کے ذمہ قرضوں کو معاف کرنے کا سلسلہ بند کریں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر تمام کام سپریم کورٹ نے ہی کرنے ہیں تو پھر حکومت کا کیا کام ہے۔
اس از خود نوٹس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ میں شامل جسٹس نواز عباسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں زرعی فارم سبزی وغیرہ پیدا کرنے کے بنائے گئے تھے لیکن وہاں پر ایسا کوئی کام نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ زمین مقامی لوگوں سے لے لی گئیں ہیں اور اب وہاں پاکستان کے لارڈز رہ رہے ہیں۔
عدالت نے اس معاملے کی سماعت گیارہ اکتوبر تک ملتوی کردی۔