Monday, 08 October, 2007, 09:01 GMT 14:01 PST
رفعت اللہ خان اورکزئی
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے گورنر سرحد کو صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کی ہے۔
اس بات کا اعلان ایم ایم اے میں شامل جمعیت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ سرحد نے پیر کو دن ایک بجے کے قریب سرحد اسمبلی میں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس ایڈوائس کا مسودہ بھی پڑھ کر سنایا جوان کے بقول انہوں نے گورنر کو بھیج دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا آئینی حق استعمال کیا ہے اور اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ آئین کے آرٹیکل 112 کی شق ایک کے تحت دیا ہے۔
واضح رہے کہ آئین کے مطابق اگر گورنر وزیراعلی سے اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ ملنے کے اڑتالیس گھنٹے کے اندر اسمبلی نہیں توڑتے تو اسمبلی خود بخود تحلیل ہو جاتی ہے۔
متحدہ مجلس عمل میں اختلافات کے حوالے سے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایم ایم اے کا وجود ایک ضرورت ہے اور پوری کوشش کی جارہی ہے کہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد اس اتحاد کو بچایا جائے۔
اس سے قبل سرحد اسمبلی کے سپیکر بخت جہان خان نے بھی اپنے عہدے سے استعفے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ایوان میں الوداعی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اب بھی ایوان کی اکثریت حاصل ہے لیکن چونکہ ان کا منصب غیر جانب دار نمائندے کا ہوتا ہے اور حکومت کی جانب سے بھی ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے لہذا اخلاقی طورپر اب ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سپیکر کے منصب پر مزید نہ رہیں۔
رکاوٹ کون تھا؟ ![]() |
ایک موقع پر صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اختر نواز خان نے سپیکر بخت جہان خان کی کسی بات پر اعتراض کیا جس پر سپیکر نے احتجاجًا اجلاس کی کارروائی چھوڑ کر ایوان سے واک آوٹ کیا تاہم بعد میں اپوزیشن اراکین انہیں مناکر دوبارہ ایوان میں لے آئے۔
دو دن قبل جمعیت علماء اسلام (ف) نے سپیکر سرحد اسمبلی بخت جہان خان کے خلاف اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک جمع کرادی تھی۔ سنیچر کو وزیر اعلیٰ نے سپیکر پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا تھا جمیعت علماء اسلام صدارتی انتخاب سے قبل اسمبلی تحلیل کرنا چاہتی تھی لیکن جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سپیکر انکی راہ میں رکاوٹ بنے تھے۔
اکرم خان درانی نے کہا تھا کہ اگر سپیکر عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری کی اجازت دے دیتے تو چھ اکتوبر سے پہلے اسمبلی کو توڑا جا سکتا تھا۔
پیر کو جب اجلاس شروع ہوا تو سپیکر نے ابتدائی ایجنڈا نمٹایا۔ اس کے بعد بحت کا آغاز ہوا تو وزیر اعلیٰ سرحد اکرم خان درانی کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے داخل کی گئی تحریک عدم اعتماد واپس لے لی گئی۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی شیر پاؤ کے رکن اسمبلی اسرار اللہ خان گنڈاپور سپیکر کے نوٹس میں یہ بات لائے کہ وزیر اعلیٰ اسمبلی میں اپنی اکثریت کھو چکے ہے لہذا آئین کے آرٹیکل 130 (سب سیکشن 5) کے تحت گورنر وزیراعلیٰ کو ہدایت کریں کہ وہ ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کریں۔
اس پر اسمبلی میں بحث کے بعد سپیکر نے گورنر کو وزیر اعلیٰ کو اپنی اکثریت ثابت کرنے کے حوالے سے رولنگ دی۔
پیر کو تقریباً تین گھنٹے تک اجلاس کی کاروائی جاری رہی۔ ایوان میں زیادہ تر وقت اپوزیشن اراکین ہی بولتے رہے جبکہ سرکاری بنچوں کی جانب سے اجلاس کی کارروائی میں عدم دلچسپی دیکھنے کو ملی۔