Monday, 08 October, 2007, 02:41 GMT 07:41 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
آٹھ اکتوبر سال دو ہزار پانچ کو آنے والے تباہ کن زلزلے کو دو سال ہوگئے ہیں لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس سے متاثر ہونے والے ہزاروں افراد اب تک اپنے گھر تعمیر نہیں کر پائے اور خدشہ ہے کہ اس سال کی سردیاں بھی انہیں عارضی رہائش گاہوں میں ہی گزارنا پڑیں گی۔
تعمیراتی لاگت میں بے پناہ اضافہ اور ناکافی وسائل کی وجہ سے لوگ اپنے لیے مستقل سائبان کا انتظام کرنے سے قاصر ہیں جبکہ اس مد میں حکومت کی طرف سے دی جانے والی امداد سے بعض اوقات مکانات کی بنیادیں بھی نہیں بن پاتیں۔
وادی جہلم کے لواسی گاؤں کے رہائشی حافظ ایوب نے چھ لاکھ روپے کی لاگت سے چار کمروں پر مشتمل نیا گھر تعمیر کر لیا ہے اور وہ اپنے خاندان والوں کے ساتھ اس گھر میں منتقل بھی ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف تعمیراتی سامان کی قیمتیں بڑھ گئیں اور دوسری طرف زلزلے میں سڑکوں کا نظام تباہ ہوجانے کے سبب تعمیراتی سامان کی نقل و حمل کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ زلزلے سے پہلے ریت کی جو مقدار پانچ سو روپے میں ملتی تھی اب اس کی قیمت پچیس سو روپے ہے، اسی طرح سریا پہلے دس سے بارہ سو روپے فی من ملتا تھا لیکن اب یہ اٹھارہ سو سے دو ہزار روپے میں خریدنا پڑتا ہے۔
حافظ ایوب کا کہنا تھا کہ تعمیراتی کام کرنے والے مزدروں اور کاریگروں کی اجرتیں بھی زلزلے کے بعد بڑھ گئی ہیں۔ زلزلے سے پہلے ایک مزدور ڈیڑھ سو روپے روزانہ اجرت لیتا تھا اور اب تین سو روپے طلب کرتا ہیں، اسی طرح کاریگر پہلے تین سو روپے لیتا تھا اور اب پانچ سو روپے سے کم پر کام نہیں کرتا۔
ان کا کہنا تھا ’حکومتی امداد سے گھر تعمیر کرنا ممکن ہی نہیں ہے، بلکہ اس رقم سے تو گھر کی بنیاد بھی تعمیر نہیں کی جا سکتی۔‘
![]() | |
| نشاط کو اس سال کی سردیاں بھی عارضی پناہ گاہ میں گزارنا پڑیں گی |
کئی دوسرے لوگوں کی طرح نشاط مغل کو بھی اس سال کی سردیاں عارضی پناہ گاہ میں ہی گزارنا پڑیں گی۔ وہ ایک سرکاری سکول میں پڑھاتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے انہیں ایک لاکھ روپے کی امداد دو قسطوں میں ملی، جو زلزلے میں تباہ ہونے والے گھر کا ملبہ ہٹوانے پر ہی خرچ ہوگئی۔ ’میرے پاس اب وسائل نہیں ہیں کہ میں گھر کی تعمیر کا کام شروع کرسکوں۔ ‘
انہوں نے کہا کہ وہ زلزلے کے چھ ماہ بعد ٹیچر تعینات ہوئیں اور ان کی تنخواہ صرف چار ہزار روپے ہے، جس میں ایک ہزار روپے معذور والد کی ادویات پر خرچ ہوتے ہیں جبکہ ایک ہزار روپے بجلی اور پانی کے ماہانہ بلوں کی ادائیگی پر صرف ہو جاتے ہیں۔ ’ باقی بچ جانے والے دو ہزار روپوں میں ہم کیا کھائیں گے اور کیا مکان تعمیر کریں گے۔‘
جن لوگوں نےگھروں کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے وہ اسے مکمل نہیں کر پا رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت سے امدادی رقم کی اقساط بر وقت نہ ملنے کے باعث انہیں تعمیر روکنا پڑی ہے۔
محمد افسر کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے دو قسطوں کی صورت میں ایک لاکھ روپے کی امداد ملی، جس کے ساتھ اپنی جمع پونجی ملا کر انہوں نے گھر کی بنیادیں رکھیں اور دیواریں کھڑی کیں۔ لیکن پچھلے آٹھ ماہ سے میں حکومتی امداد کی تیسری اور آخری قسط کا انتظار کر رہے اور جب تک یہ رقم نہیں ملتی میں گھر کی چھتیں تعمیر نہیں کرسکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ آئے روز بینک جاتے ہیں جہاں انہیں ہر بار یہ کہا جاتا ہے کہ اکاؤنٹ میں ابھی تک رقم جمع نہیں ہوئی ہے اور ایرا کے دفتر میں پتہ کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ان کا تو نام ہی ریکارڈ میں موجود نہیں۔
زلزلے سے متعلق کشمیر کے اس علاقے کے تعمیر نو اور بحالی کے ادارے کے سربراہ آصف حسین شاہ کا کہنا ہے کہ جانچ پڑتال کے عمل سے لے کر امدادی قسط کی ادائیگی تک ہر مرحلے میں چار سے چھ ہفتے درکار ہوتے ہیں۔
![]() | |
| جن لوگوں نےگھروں کی تعمیر کا آغاز کر دیا ہے وہ اسے مکمل نہیں کر پا رہے |
زلزلے کے باعث کشمیر میں کوئی پونے تین لاکھ گھر تباہ ہوئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام گھروں کے مالکان کو پچہتر ہزار روپے کے حساب سے پہلی قسط مل چکی ہے اور پونے دو لاکھ ایسے ہیں جو دوسری قسط بھی وصول کر چکے ہیں جبکہ صرف سولہ ہزار مالکان کو مکمل ادائیگی ہو سکی ہے۔