Saturday, 06 October, 2007, 13:38 GMT 18:38 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
کوئٹہ میں سنیچر کو صدر کے انتخاب کے موقع پر کڑے حفاظتی انتظامات کے باوجود وکلاء نے بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کی اپیل پر صوبے میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے۔
زرغون روڈ پر واقع بلوچستان اسمبلی اور گورنر و وزیر اعلیٰ ہاؤس کی حفاظت کے لیے پولیس اور فرنٹئر کور کے اہلکار بڑی تعداد میں تعینات کیے گئے تھے۔ عام شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد تھی اور سڑکوں پر بڑے بڑے ٹرک کھڑے کر دیے گئے تھے۔
بلوچستان بار ایسوسی ایشن اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے وابستہ وکلاء نے احتجاجی جلوس نکالا اور رکاوٹوں کے باوجود بلوچستان ہائی کورٹ اور بلوچستان اسمبلی کے سامنے پہنچ گئے جہاں انہوں نے شدید نعرے بازی کی۔ ان نعروں میں ’گو مشرف گو‘، ’مشرف کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے‘ اور ’جنرل بینظیر مردہ باد‘ نمایاں تھے۔
وکلاء کا احتجاج اور نعرے ![]() |
صوبے کے بعض علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام اور نیشنل پارٹی کے قائدین بھی وکلاء کے مظاہرے میں شریک ہوئے۔
نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ ان کی ہڑتال کامیاب رہی ہے اور یہ کہ اسمبلیوں سے استعفے دینے کا مقصد جمہوری طریقے سے احتجاج کرنا اور جنرل مشرف پر یہ اختلاقی دباؤ ڈالنا تھا کہ وہ اقتدار چھوڑ کر جمہوری نظام کو آگے بڑھنے دییں۔
انہوں نے کہا کہ اے پی ڈی ایم میں اختلاف رائے ضرور ہے لیکن کوئی اختلافات نہیں ہیں جو کچھ ہے اسے بہتر انداز میں حل کر لیا جائے گا۔
جمعیت علماء اسلام کے رہنما عبدالقادر لونی نےکہا ہے کہ بلوچستان کی حد تک اے پی ڈی ایم میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور سنیچر کی ہڑتال مشترکہ کوششوں سے کامیاب ہوئی ہے۔
![]() | |
| بلوچستان اسمبلی میں ارکان حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں |